.

داعش کا ترکی کی سرحد کے نزدیک شامی باغیوں پر بڑا حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شمالی صوبے حلب میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے باغی جنگجوؤں کے خلاف ایک نئے حملے کا آغاز کیا ہے اور انھوں نے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع حلب کے شمالی علاقے پر قبضہ کر لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق ترکی کی سرحد سے بیس کلومیٹر جنوب میں واقع قصبے ماریا اور اس کے نواح میں لڑائی کے دوران داعش اور شامی باغی گروپوں کے متعدد جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔اس قصبے میں داعش کے چار بمباروں نے سوموار کی شب خودکش حملے کیے تھے۔

داعش نے نزدیک واقع گاؤں ام حوش پر قبضے کے بعد ماریا کو اپنے زیرنگیں لانے کے لیے یہ حملہ کیا ہے۔شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق اور ایک باغی کمانڈر کا کہنا ہے کہ داعش کا گذشتہ کئی ماہ کے بعد اس علاقے میں یہ شدید ترین حملہ ہے اور اس کے بعد داعش اور باغی جنگجوؤں کے درمیان خونریز لڑائی جاری ہے۔اس میں اب تک پچیس باغی اور داعش کے آٹھ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

داعش نے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کے جنگجوؤں نے ماریا میں دو عمارتوں پر حملہ کیا تھا اور مخالف ملیشیا کے قریباً پچاس ارکان کو ہلاک کردیا تھا۔مذکورہ باغی کمانڈر کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے مسلح افراد سابق فوجیوں اور باغی نوجوانوں پر مشتمل جیش الحر سے تعلق رکھتے تھے۔

شام میں القاعدہ سے وابستہ النصرۃ محاذ نے سوموار کو حلب میں داعش کے مقابلے میں محاذ جنگ کی پوزیشنوں سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔النصرۃ محاذ نے ایک بیان میں ترکی اور امریکا کے شام کے سرحدی علاقے میں باغیوں کے لیے ایک محفوظ زون کے قیام اور وہاں سے داعش کو نکال باہر کرنے کے منصوبے پر تنقید کی تھی اور کہا تھا کہ اس کا مقصد بشارالاسد کے خلاف لڑنے کے بجائے ترکی کی قومی سلامتی کے مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔

النصرۃ محاذ داعش کا مخالف جنگجو گروپ ہے لیکن اب اس نے کہا ہے کہ اس داعش مخالف مہم میں شرکت کی ممانعت کردی گئی ہے۔امریکا اور ترکی نے گذشتہ ماہ سرحد کے نزدیک واقع شام کے شمالی علاقے سے داعش کے جنگجوؤں کو نکال باہر کرنے اور شامی باغیوں کو فضائی کور مہیا کرنے کا اعلان کیا تھا۔اس وقت داعش کا اس علاقے پر کنٹرول ہے اور چند ایک مقامات پر باغی گروپوں نے بھی کنٹرول کررکھا ہے۔

گذشتہ ماہ النصرۃ محاذ نے حلب میں امریکا کے تربیت یافتہ شامی باغیوں کو گرفتار کر لیا تھا اور دوسرے گروپوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ داعش کے خلاف لڑائی کے لیے امریکا کے تربیتی پروگرام میں حصہ لینے سے گریز کریں کیونکہ اس گروپ کے بہ قول امریکا انھیں اپنے مفادات کے استعمال کرے گا۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان شام کے اعتدال پسند باغیوں کو داعش کے خلاف لڑنے کے لیے تربیت دینے کے علاوہ مسلح بھی کررہا ہے۔امریکا کی اتحادی شامی کرد ملیشیا داعش کے خلاف جنگ میں پیش پیش ہے اور اس کا حلب سے شمال مشرق میں واقع ترکی کے ساتھ سرحد کے چار سو کلومیٹر حصے پر کنٹرول ہے۔