.

شامی فضائیہ کے کرنل کا قاتل بشارالاسد کا بھتیجا گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی حکام نے فضائیہ کے ایک کرنل کے قتل کے الزام میں مطلوب صدر بشارالاسد کے کزن کے بیٹے سلیمان ہلال الاسد کو گرفتار کر لیا ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کی اطلاع کے مطابق سلیمان ہلال الاسد کو گرفتاری کے بعد متعلقہ حکام کے ہاں منتقل کردیا گیا ہے۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ سلیمان کو اللاذقیہ اور صدر بشارالاسد کے آبائی گاؤں قردہ کے درمیان واقع شاہراہ سے گرفتار کیا گیا ہے۔

سلیمان الاسد پر الزام ہے کہ انھوں نے گذشتہ جمعرات کی شب صوبہ اللاذقیہ میں ایک سڑک پر سفر کے دوران معمولی توتکار پر فضائیہ کے کرنل حسان الشیخ کو گولی مار کر قتل کردیا تھا۔

مقتول اور قاتل دونوں کا تعلق صدر بشارالاسد کے علوی فرقے سے ہے۔اس واقعے پر صوبائی دارالحکومت اللاذقیہ میں کشیدگی پائی جارہی ہے اور وہاں ہفتے کے روز ایک ہزار سے زیادہ افراد نے کرنل شیخ کے دن دہاڑے اس اندوہناک قتل کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور حکومت سے انصاف مہیا کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

شامی روزنامے الوطن نے اپنی سوموار کی اشاعت میں مقتول کے لواحقین کے حوالے سے اطلاع دی تھی کہ صدر نے انھیں انصاف دلانے کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اس جرم کے قصوروار کو سزا دی جائے گی۔

کرنل شیخ کی اہلیہ میسا غنم نے اخبار کو بتایا کہ انھیں صدر بشارالاسد کی جانب سے یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ قاتل جوکوئی بھی ہے،اس کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ان سے یہ وعدہ تعزیت کے لیے آنے والے ایک سرکاری وفد نے کیا ہے۔اس خاتون کا کہنا تھا کہ ''مجھے صدر کے الفاظ پر اعتبار ہے۔ ہمیں ہمارا حق ملے گا''۔

سلیمان الاسد نے مبینہ طور کرنل حسان شیخ کو محض اس بات پر گولی مار دی تھی کہ انھوں نے اللاذقیہ میں ایک شاہراہ پراپنی کار ان سے آگے نکال لی تھی۔مبینہ قاتل کے باپ اور صدر بشارالاسد کے فرسٹ کزن ہلال الاسد اس ساحلی شہر میں دفاعی افواج کے سربراہ تھے۔ وہ مارچ 2014ء میں اس شہر کے نزدیک واقع قصبے کساب میں باغیوں کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے تھے۔

کرنل شیخ کے بھائی ناصر واقعے کے وقت کار ان کے ساتھ ہی سوار میں تھے۔انھوں نے اخبار الوطن کو بتایا ہے کہ ان کے بھائی نے قاتل کو ٹریفک جام میں راستہ نہیں دیا تھا اور اس نے محض اس بنا پر طیش میں آکر گولی چلا دی تھی۔

انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ ان کے بھائی کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور انھیں شاہراہوں میں ایسی مجرمانہ کارروائیاں کرنے والوں سے نجات ملے گی۔ان کا اشارہ شامی صدر بشارالاسد کی وفادار مسلح ملیشیاؤں کی جانب تھا جن کے مسلح جنگجو کسی قسم کی قانونی چارہ جوئی سے بے نیاز ہوکر اس طرح کے جرائم میں ملوّث ہوتے رہتے ہیں۔

اللاذقیہ کے گورنر ابراہیم خدر السالم نے شامی صدر کی جانب سے متاثرہ خاندان کے ساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے انھیں یقین دہانی کرائی ہے کہ جب تک صدر بشارالاسد موجود ہیں انھیں ان کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔