.

بغداد میں داعش کا ٹرک بم دھماکا،76 افراد ہلاک

مصروف بازار میں تباہ کن بم حملے کے بعد انسانی اعضاء ادھر ادھر پھیل گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے دارالحکومت بغداد کے علاقے صدر سٹی میں واقع ایک مصروف بازار میں تباہ کن ٹرک بم دھماکے میں چھہتر افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) نے اس ٹرک بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔داعش نے آن لائن پوسٹ کیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے بغداد کے شیعہ آبادی والے علاقے میں فوج اور ملیشیا کے جنگجوؤں کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

اس بم دھماکے کے فوری بعد صدر سٹی کے مکینوں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کردیں اور وہ زخمیوں اور مرنے والوں کی لاشیں ایمبولینسوں اور ذاتی گاڑیوں کے ذریعے اسپتالوں میں منتقل کرنے لگ گئے۔دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس سے مرنے والوں کے اعضا ادھر ادھر بکھر گئے اور شہریوں نے انھیں تھیلوں میں اکٹھا کیا ہے۔

تین اسپتالوں کے حکام نے ہلاکتوں اور زخمیوں کی مذکورہ تعداد کی تصدیق کی ہے لیکن عراقی پولیس کے حکام نے جمعرات کو اس بم دھماکے میں چوّن افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ چھیاسی افراد زخمی ہوئے ہیں۔دو پولیس افسروں نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ بارود سے لدے ٹرک کو صدر سٹی میں واقع بازارِ جمیلہ میں دھماکے سے اڑایا گیا ہے۔

ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ جمعرات کو اس بازار میں بہت رش ہوتا ہے کیونکہ دوسرے صوبوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اختتام ہفتہ پر اشیائے ضروریہ کی خریداری کے لیے آتے ہیں۔

واضح رہے کہ عراقی سکیورٹی فورسز مغربی صوبے الانبار میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ آزما ہیں۔عراقی فورسز کی کارروائیوں کے ردعمل میں داعش کے جنگجو بغداد اور دوسرے شہروں میں اہل تشیع پر خاص طور پر خودکش بم حملے یا ٹرک بم حملے کرتے رہتے ہیں لیکن کسی شیعہ آبادی میں یہ ان کا اب تک سب سے تباہ کن ٹرک بم دھماکا ہے۔