.

امریکا: کردوں پر داعش کے مبیّنہ کیمیائی حملے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے شمالی عراق میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کی جانب سے کرد فورسز کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات شروع کردی ہے۔

واشنگٹں میں وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان ایلسٹیئر باسکے نے کہا ہے کہ امریکا داعش پر کرد فورسز کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق الزامات کو نہایت سنجیدگی سے لے رہا ہے اور وہ اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ترجمان نے کہا کہ داعش کے خلاف پہلے بھی کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کے الزامات عاید کیے جاچکے ہیں۔

باسکے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم ان رپورٹس کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں اور ہم یہ بات زور دے کر کہیں گے کہ کیمیائی یا حیاتیاتی مواد کا ہتھیار کے طور پراستعمال بین الاقوامی معیار اور اقدار کے بالکل منافی ہے''۔

ایک اور امریکی عہدے دار نے جمعرات کو ایک بیان میں داعش کی جانب سے کرد جنگجوؤں کے خلاف مسٹرڈ گیس کے استعمال سے متعلق رپورٹس کو قابل اعتباد قرار دیا ہے۔وہ امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل میں شائع شدہ ایک رپورٹ کا ذکر کر رہے تھے جس میں امریکی اور جرمن ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انتہا پسند گروپ نے ممنوعہ کیمیائی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

جرمن وزارت دفاع نے جمعرات کو یہ دعویٰ کیا تھا کہ عراق کے شمالی علاقے میں سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ (داعش) کے خلاف جنگ آزما کرد فورسز پر چند روز قبل کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا ہے جبکہ جرمنی کی وزارت خارجہ نے اس حملے کی تصدیق سے انکار کیا تھا۔

جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ شمالی عراق میں داعش کے خلاف نبرد آزما کرد فورسز پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کی تصدیق نہیں کرسکتے۔تاہم وزارت نے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے امکان کو مسترد نہیں کیا تھا۔

عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان کے دارالحکومت اربیل کے جنوب مغرب میں پینتیس کلومیٹر دور واقع علاقے مخمور میں منگل کے روز کرد فوجیوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا گیا تھا۔کرد فورسز البیش المرکہ کے ایک کمانڈر محمد خوشاوی نے بتایا ہے کہ منگل کو ہمارے ٹھکانوں پر پینتالیس مارٹر گولے فائر کیے گئے تھے۔ان مارٹروں میں کیمیائی مواد تھا کیونکہ ان سے ہونے والے زخم مختلف ہیں۔کرد حکام کے بہ قول ان مارٹروں میں کلورین گیس تھی لیکن انھوں نے مسٹرڈ گیس کا ذکر نہیں کیا تھا۔

کرد فورسز البیش المرکہ کے ترجمان نے العربیہ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اس حملے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ داعش کی جانب سے اس طرح کے حملے عام ہیں۔ترجمان جنرل حول کرد نے بتایا کہ ''داعش کے جنگجو گذشتہ سات ماہ سے البیش المرکہ کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کررہے ہیں''۔

البیش المرکہ کے عہدے داروں نے اس سے پہلے بدھ کو امریکی اور فرانسیسی ماہرین کے ایک وفد کی علاقے میں پہنچنے کی اطلاع دی تھی۔اس وفد نے کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں زخمی فوجیوں کا معائنہ کیا ہے اور ان فوجیوں کے جلے ہوئے زخمی اعضاء کے نمونے تجزیے کے لیے لیبارٹری میں بھجوا دیے گئے ہیں۔

اس حملے کے نتیجے میں بعض کرد جنگجوؤں کا نظام تنفس متاثر ہوا ہے اور انھیں سانس لینے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ بعض فوجیوں کے گلے ،آنکھوں اور ناک پر جلنے سے زخم آئے ہیں۔بعض کو قے شروع ہوگئی تھی لیکن انھیں تربیت دینے والے جرمن فوجیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔