.

مصر : رابعہ قتل عام کی برسی ، مظاہرین پراشک آور گیس کی شیلنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر میں پولیس نے مقتولین رابعہ العدویہ اسکوائر کی دوسری برسی کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کرنے والے سابق حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے حامیوں کو اشک آور گیس کی شیلنگ کرکے منتشر کردیا ہے۔

دارالحکومت قاہرہ میں برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامی سیکڑوں مقتولین کی دوسری برسی کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے اور اخوان المسلمون کے حامیوں کو احتجاجی مظاہروں سے روکنے کے لیے اہم شاہراہوں اور سرکاری عمارتوں پر پولیس کی اضافی نفری تعینات کی گئی تھی۔

پولیس حکام کے مطابق برطرف صدر ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے قاہرہ کے مغربی علاقے میں نماز جمعہ کے بعد تین چھوٹی ریلیاں نکالی تھیں اور ان میں درجنوں مظاہرین ہی شریک تھے۔پولیس نے ان پر اشک آور گیس کے گولے پھینک کر انھیں منتشر کردیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ قاہرہ کے شمال میں ڈاکٹر محمد مرسی کے حامیوں نے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا تھا اور انھوں نے پولیس اہلکاروں کی جانب پٹاخے پھینکے ہیں۔انھیں بھی اشک آور گیس کے گولے پھینک کر منتشر کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ پولیس نے 14 اگست 2013ء کو قاہرہ کے مشہور رابعہ العدویہ چوک میں اخوان المسلمون کے سیکڑوں حامیوں کے احتجاجی کیمپ کو بزور طاقت اکھاڑ پھینکا تھا اور دھرنا دینے والےسیاسی کارکنان پر گولیاں چلا دی تھیں اور ان پربلڈوزر چڑھا دیے تھے۔اس کارروائی میں مصری حکومت کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سات سو افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اخوان نے مہلوکین کی تعداد چودہ سو اور دو ہزار کے درمیان بتائی تھی۔

اس قتل عام کی برسی کے موقع پر کالعدم اخوان المسلمون کے بچھے کچھے کارکنان نے نماز جمعہ کے بعد حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کی اپیل کی تھی۔انھیں روکنے کے لیے رابعہ چوک کی جانب جانے والی مرکزی شاہراہوں اور سرکاری عمارتوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی۔

دوسال کے بعد اخوان کے کارکنان اور لیڈروں کے قتل عام میں ملوّث کسی پولیس اہلکار کے خلاف تو کوئی مقدمہ نہیں چلایا جارہا ہے جبکہ اس کے بجائے اخوان کی قیادت اور کارکنان کے خلاف قتل ،اقدام قتل ،بلووں ،سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے،پُرتشدد مظاہروں اور مظاہرین کی ہلاکتوں کے الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں اور اب تک مرشد عام محمد بدیع اور ڈاکٹر محمد مرسی سمیت اخوان کے سیکڑوں کارکنان اور قائدین کو سزائے موت سنائی جاچکی ہے۔

نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قاہرہ میں دو سال پہلے مصری فورسز کی کارروائی میں ہونے والی ہلاکتوں کی تحقیقات کا آغاز کرے۔تنظیم کے بہ قول یہ ہلاکتیں ممکنہ طور پر انسانیت مخالف جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔

تنظیم کے مشرق وسطیٰ کے لیے ڈپٹی ڈائریکٹر جو اسٹارک نے کہا ہے کہ ''اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل ہی ان چند روٹس میں سے ایک ہے جہاں اس سفاکانہ قتل عام کا احتساب ہوسکتا ہے''۔

دوسری جانب مصر کی حکومت شروع سے ہی احتجاجی مظاہرین کے دھرنے کو بزور طاقت رابعہ اسکوائر سے ہٹائے جانے کا دفاع کرتی چلی آرہی ہے اور اس کا اس بات پر اصرار رہا ہے کہ اسلام پسند کارکنان ''مسلح دہشت گرد'' تھے۔

مصر کی حکومت نے بعد میں اخوان المسلمون کو ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے کر اس پر پابندی عاید کردی تھی۔ سعودی عرب نے بھی اخوان کو دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔واضح رہے کہ ڈاکٹر محمد مرسی مصر کے جمہوری طور پر پہلے منتخب صدر تھے۔وہ ایک سال تک برسر اقتدار رہے تھے اور مسلح افواج کے سربراہ عبدالفتاح السیسی (اب منتخب صدر)نے عوامی احتجاجی مظاہروں کے بعد 3 جولائی 2013ء کو ڈاکٹر مرسی کی حکومت کو برطرف کردیا تھا۔وہ تب سے جیل میں بند ہیں اور پھانسی کے منتظر ہیں۔