.

حماس کی عسکری اور سیاسی قیادت میں ٹھن گئی!

ایران سے تعلقات تنظیم کی صفوں میں اختلافات کا باعث بنتے جا رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے جنگ سے متاثرہ اور محصور علاقے غزہ کی پٹی کی حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت "حماس" کے پولٹ بیورو کے سربراہ خالد مشعل اور تنظیم کے طاقتور عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈ کے درمیان ایران سے تعلقات کے باب میں تنائو پایا جا رہا ہے۔

حماس کی سیاسی اور عسکری قیادت میں یہ اختلافات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب غزہ کی پٹی کے عوام اور حماس دونوں بدترین معاشی بحران، بے روزگاری اور اقتصادی زبوں حالی کا سامنا کر رہے ہیں۔

جب سے غزہ کی پٹی کے حلس اور دغمش جیسے سرکردہ قبائل میں دولت اسلامی "داعش" کے حامیوں نے سر اٹھانا شروع کیا تب سے غزہ میں حماس کے سیاسی بقاء کو بھی تشویش کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ حماس بھی ان حالات میں تشویش کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ حماس کی قیادت داعش کی حمایت کرنے والے قبائل کے حوالے سے محتاط رویہ اپنائے ہوئے ہے۔ حماس کے بعض قائدین داعش نواز قبائل کے دفاع میں بھی پیش پیش دکھائی دیتے ہیں۔

جماعت کے لیڈر غازی حمد کا یہ بیان قابل ذکر ہے جس میں انہوں نے داعش کے حامی قبائل کے دفاع میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں کسی قبیلے کے خلاف توہین آمیز طرز عمل اختیار کرنے کے بجائے ان کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ انہوں نے موجودہ حالات میں بھی سماجی ہم آہنگی کی رسی ہاتھ سے نہیں چھوڑی ہے"۔ تاہم انہوں نے کہا کہ غزہ کے محاصرے کے بارے میں حماس اور صدر محمود عباس کے موقف میں یکسانیت موجود ہے۔

مشعل، ایران اور حزب اللہ سے فاصلے پر، القسام برہم

حماس کی صف اول کی قیادت میں ایران اور حزب اللہ کے ساتھ تعلقات کے باب میں اختلافات کی خبریں پہلے بھی آتی رہی ہیں۔ مصر میں اخوان المسلمون کا گھیرا تنگ ہونے کے بعد حماس کی اندرون ملک اور جلاوطن قیادت میں اختلافات سامنے آئے۔ حماس ایک جانب تو اخوان المسلمون کے زیر عتاب آنے کے بعد خود کو ایک بڑی علاقائی سیاسی قوت کے طور پر منوانے کے لیے کوشاں ہے اور دوسری جانب اسے اندرون ملک اسرائیل کے خلاف بھی اپنی جدو جہد کا دفاع کرنا پڑ رہا ہے۔

علاقائی سطح پر حماس کو سرکردہ قوت کے طور پر منوانے کے لیے جماعت کے سیاسی شعبے کے سربراہ خالد مشعل سرگرم عمل ہیں۔ تاہم ایران کی جانب سے معاونت کم ہونے کے بعد اب اخوان المسلمون کی عالمی تنظیم اور ترکی جیسے ممالک کی آشیر باد باقی رہ گئی ہے۔

دوسری جانب حماس کی اندرون فلسطین عسکری قیادت کا موقف سیاسی گروپ سے جدا ہے۔ عسکری تنظیم القسام کی قیادت محمد ضیف کے ہاتھ میں ہے اور ضیف غزہ میں حماس کی سیاسی قیادت کےزیادہ قریب سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں ڈاکٹر محمود الزھار خاص طور پر نمایاں ہیں۔ حماس کی عسکری قیادت کی ترجیحات میں جماعت کو علاقائی سیاسی معاملات میں فوقیت دلوانا ہر گز نہیں بلکہ عسکری تنظیم غزہ کی پٹی کو اسرائیل کے خلاف آزادی کا 'بیس کیمپ' بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

مبینہ طور پر حماس کے عسکری ونگ کو ایران کی جانب سے مالی اور فوجی معاونت بھی مل رہی ہے اور القسام کے لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ بھی گہرے مراسم ہیں۔ القسام کی قیادت کا کہنا ہے کہ جماعت کی جو قیادت ایران اور حزب اللہ سے دوری اختیار کر رہی ہے اسے جلد با بدیر اپنے طرز عمل پر ندامت اٹھانا پڑے گی۔

ابو ولید کے سیاسی رسوخ میں کمی

ماہرین کے خیال میں حماس کے سیاسی شعبےاور عسکری تنظیم کے درمیان اختلافات کے نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔ خاص طور پر غزہ کی پٹی میں خالد مشعل کےسیاسی اثرو رسوخ میں کمی بھی ان نتائج کا حصہ سمجھی جا رہی ہے۔ غزہ کی پٹی میں پچھلے سات سال حماس کی حکومت قائم رہی اور اسماعیل ھنیہ اس کے وزیر اعظم تھے۔

چنانچہ غزہ کی پٹی میں حماس کی حکومت کا دست وبازو کوئی اور پولیس یا قانون نافذ کرنے والا ادارہ نہیں جماعت کی عسکری تنظیم تھی جس نے سیکیورٹی کے فرائض نبھائے۔ یہی وجہ ہے کہ غزہ کی پٹی میں القسام کا موقف یہ ہے کہ حماس کا اصل کام قتال اور فیلڈ میں عسکری کارروائیوں پر مرکوز ہونا چاہیے۔ غزہ کی پٹی میں حماس کی اسی سوچ کو زیادہ پذیرائی ملی جبکہ سیاسی شعبے کو وہ مقام نہیں مل سکا جو شائد اسے بیرون ملک ملا ہے۔

پچھلے سال غزہ کی پٹی پر اسرائیل نے دو ماہ تک جنگ مسلط کیے رکھی اور آخر کار جماعت کی سیاسی قیادت نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا فیصلہ کیا۔ حماس کی عسکری قیادت کو سیاسی قیادت کے فیصلے سے اتفاق نہیں تھا کیونکہ القسام بریگیڈ کا کہنا تھا کہ سیاسی قیادت جنگ کے اہداف حاصل نہیں کرسکی ہے۔

پچھلے سات سال میں حماس کی غزہ کی پٹی میں حکومت کے دوران القسام بریگیڈ کو ایک پولیس فورس کا درجہ حاصل رہا۔ القسام کے جنگجو ہی سیاسی مخالفین بالخصوص تحریک فتح سے وابستہ افراد کو گرفتار کرتے اور سیکیورٹی کے انتظام سنھبالتے۔ غزہ میں شدت پسند سلفی جہادی گروپوں سے بھی القسام ہی کو نمٹنا پڑتا رہا ہے۔ یوں القسام کو غزہ کی پٹی میں گہرا اثر ورسوخ حاصل ہے۔

ایرانی امداد القسام تک محدود

ایران کی جانب سے ماضی میں حماس کے سیاسی اور عسکری شعبے کو امداد ملتی رہی ہے لیکن پچھلے کچھ عرصے سے جماعت کےسیاسی شعبے کو ایران سے امداد ملنا بند ہو چکی ہے۔ اب ایران کی ترجیح غزہ میں حماس کا عسکری ونگ القسام بریگیڈ رہ گیا ہے اور اب جس نوعیت کی امداد بھی آ رہی ہے وہ القسام بریگیڈ کے لیے ہے۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بناء پر القسام بریگیڈ کی زیادہ ہمدردیاں ایران کے ساتھ ہیں جب کہ خالد مشعل ایران سے اتحاد اور تعلقات کے فروغ میں کوئی زیادہ سرگرمی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔

بہر حال حماس کی قیادت میں اختلافات کے علی الرغم جماعت کے سیاسی شعبے نے بھی کئی اہم محاذوں پر اپنی مساعی جاری رکھی ہوئی ہیں۔ اس ضمن میں غزہ اور قبرص کے درمیان سمندری راہ داری کی شرط پر اسرائیل کے ساتھ طویل جنگ بندی کی بات چیت بھی چل رہی ہے۔