.

داعش نے یرغمال بنائی گئی آشورین خواتین کی تصاویر جاری کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام "داعش" نے رواں سال فروری میں شام کے شہر حسکہ سے یرغمال بنائی گئی آشورین نسل کی تین خواتین کی ان کے بچوں کے ہمراہ تصاویر جاری کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی اخبارمیں شائع ہونے والی تصاویر میں ان خواتین نے اپنے ہاتھوں میں کاغذ پر لکھے اپنے نام اور داعش کے ہاں سے جاری کردہ کوڈ نمبر بھی دکھایا ہے۔

داعش کی جانب سے ابھی تک تین آشورین خواتین کی تصاویر سامنے آئی ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے تاکہ ان کے اہل خانہ اور انسانی حقوق کی تنظیمیں تاوان ادا کرنے کے بعد ان کی رہائی کی کوشش کرسکیں۔ اگر ان کا "فدیہ" [تاوان] ادا نہ کیا جا سکا تو خواتین کی بے حرمتی کا خدشہ ہے۔ حال ہی میں امریکی ٹی وی ABC News نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ امریکی امدادی کارکن کائلہ مولر کو اس کےقتل سے قبل داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی نے کئی بار مبینہ طور پر زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔

برطانوی اخبار" ڈیلی میل" نے سویڈن میں سرگرم آشورین الائنس" کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں اس کا کہنا ہے کہ 'داعش' کی جانب سے جاری کردہ خواتین کی تصاویر اور ان کے نام حسہ سے یرغمال بنائے گئے 220 آشوریائی باشندوں میں شامل خواتین سے ملتے جلتے ہیں۔

ڈیلی میل نے 'داعش' کی جانب سے جاری کردہ ایک ویڈیو فوٹیج کا بھی حوالہ دیا ہے جس میں آٹھ آشوریائی یرغمالی مردوں کو بھی دکھایا گیا ہے جو اپنی رہائی کے لیے عالمی برادری سے مدد مانگ رہے ہیں۔ ممکنہ طور پر یہ تصاویر اور ویڈیو 17 جولائی کو جاری کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ داعشی جنگجوئوں نے رواں سال فروری میں شام کے شہر الحسکہ پر یلغار کر کے دو سو سے زائد آشوریائی مردو خواتین اور بچوں کو یرغمال بنالیا تھا۔ یرغمال بنائے گئے آشوریائی باشندوں میں سے صرف 22 کو رہا کیا گیا باقی ابھی تک لاپتا ہیں۔