.

شامی فوج کا دوما پر فضائی حملہ، کم سے کم 100 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کے لڑاکا طیاروں نے دارالحکومت دمشق کے نزدیک واقع باغیوں کے زیر قبضہ شہر دوما میں ایک مصروف بازار پر فضائی حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں کم سے کم ایک سو افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق شامی فضائیہ نے اتوار کو دوما میں مصروف اوقات کے دوران بازار پر حملہ کیا ہے۔اس وقت لوگوں کی بڑی تعداد خریداری میں مصروف تھی۔برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ ''یہ سرکاری قتل عام ہے اور یہ جان بوجھ کر کیا گیا ہے''۔

انھوں نے شام میں موجود اپنے نیٹ ورک کے حوالے سے بتایا ہے کہ لڑاکا طیارے نے پہلے ایک میزائل فائر کیا تھا اور جب لوگوں اس حملے کی جگہ پر جمع ہوئے تو ان پر دوسرا میزائل داغ دیا گیا۔ان کا کہنا ہے کہ دوما میں کل چار میزائل فائر کیے گئے ہیں۔

انھوں نے اس فضائی حملے میں مرنے والوں کی تعداد بیاسی اور زخمیوں کی دو سو بتائی ہے اور کہا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد میں اضافے کا اندیشہ ہے کیونکہ بہت سے زخمیوں کی حالت تشویش ناک ہے۔

شامی کارکنان پر مشتمل ایک اور گروپ مقامی رابطہ کمیٹیوں نے فضائی حملے میں ایک سو افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ کم سے کم قریباً تین سو افراد زخمی ہوئے ہیں۔دوما سے تعلق رکھنے والے ایک کارکن مازن الشامی نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ فضائی حملے کے بعد بازار میں افراتفری کا عالم تھا۔علاقے میں واقع کلینک زخمیوں سے بھر چکے ہیں اور ایمبولینس گاڑیاں کم پڑجانے کی وجہ سے لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنی کاروں میں زخمیوں کو دوسرے اسپتالوں میں منتقل کیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ شہر کی مساجد سے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں سے خون کے عطیات دینے کی اپیلیں کی جارہی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ پہلے میزائل حملے کے وقت بازار میں سیکڑوں افراد موجود تھے۔

واضح رہے کہ شام میں گذشتہ ساڑھے چار سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران شامی فوج کا یہ سب سے تباہ کن فضائی حملہ ہے اور اس میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔شامی فوج کی زمینی اور فضائی بمباری کے نتیجے میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔