.

عراق: مختلف دھماکوں میں 24 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بغداد میں ابھی رواں ہفتے ہونیوالے ہولناک بم دھماکے کی بھیانک یادیں ابھی تازہ ہی تھیں کہ ہفتے کے روز مختلف بم دھماکوں کے نتیجے میں کم ازکم 24 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

عراقی پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ بغداد کے مشرقی علاقے میں کاروں کی خرید وفروخت کے ایک بارونق مقام پر دھماکے کے نتیجے میں 15 شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔ دھماکا کا یہ واقعہ ہفتے کے روز عراقی دارالحکومت کے شہر صدر کے حبیبہ کے علاقے میں پیش آیا۔ حکومتی عہدیدار کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 35 افراد زخمی بھی ہوگئے تھے۔

کاروں کی خرید وفروخت کے حوالے سے مقبول حبیبہ کار ڈیلر شپ کو اس سے پہلے بھی کئی بار حملوں کا نشانہ بنایا جا سکا ہے۔

عراقی پولیس کے افسر مرتضٰی عابد علی نے دھماکے کی جگہ پر میڈیا نمائندوں کو بتایا "ایک سرویلنس کیمرہ کی فوٹیج سے کی جانیوالی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک شخص نے ایک سفید کار پارکنگ میں کھڑِی کی اور وہ ایک قریب ہی موجود چائے کے کھوکھے میں گھس کیا۔ اس کے پانچ منٹ بعد گاڑی دھماکے سے پھٹ گئی۔"

اس کے علاوہ ہفتے کے روز ہی بغداد کے شمال میں موجود علاقے تاجی میں ایک گاڑیوں کی مرمت کی دکان پر ہونیوالے ایک حملے کے نتیجے میں دو افراد ہلاک جبکہ سات افراد زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ جسر دیالی، مدائن اور اسکان میں ہونیوالے دھماکوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک ہوگئے۔

اس سے پہلے جمعرات کے روز صدر شہر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں کم از کم 67 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ یہ عراق میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران ہونے والے سب سے خطرناک دھماکوں میں سے ایک تھا۔

ہفتے کے روز ہونیوالے دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی گروپ نے قبول نہیں کی ہے مگر دولت اسلامیہ عراق وشام 'داعش' نے جمعرات کو ہونیوالے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی تھی۔