.

عراق میں اصلاحات ،کئی مشیروں کے عہدے ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے اپنے اصلاحات کے ایجنڈے کے تحت وزارتوں میں ٹھیکے دار کے طور پر کام کرنے والے مشیروں کے عہدے ختم کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ وزیراعظم ،صدر اور پارلیمان کے اسپیکر کے لیے مشیروں کی تعداد بھی گھٹا رہے ہیں۔

حیدر العبادی نے منگل کے روز اپنے فیس بُک صفحے پر ایک پوسٹ میں بتایا ہے کہ اب وزیراعظم، صدر اور اسپیکر صرف پانچ،پانچ مشیر رکھ سکیں گے۔البتہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ان کے اس فیصلے سے کل کتنے عہدے متاثر ہوں گے۔

عراقی وزیراعظم نے گذشتہ ہفتے اصلاحات کے ایک وسیع تر ایجنڈے پر عمل درآمد کا اعلان کیا تھا۔اس اصلاحتی مہم کا مقصد وزارتوں اور سرکاری اداروں میں پائی جانے والی بد عنوانیوں اور بد انتظامیوں کا خاتمہ کرنا ہے کیونکہ ناقدین کے بہ قول سرکاری اداروں میں بدعنوانیوں کی وجہ سے ملک کے لاکھوں شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں اور خاص طور پر عراقی سکیورٹی فورسز میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رہی ہے۔

حیدرالعبادی نے گذشتہ اتوار کو اپنی کابینہ کے ایک تہائی ارکان کو برطرف کردیا تھا۔انھوں نے بعض وزارتوں کو ایک دوسرے میں ضم کردیا ہے اور بعض عہدے ختم کردیے ہیں جس کے بعد وزراء کی تعداد بائیس رہ گئی ہے۔

اس سے پہلے انھوں نے تین نائب صدور کے عہدے بھی ختم کردیے تھے۔سیاست دانوں کی سکیورٹی اور دوسری مراعات بھی واپس لے لی گئی ہیں اور انھوں نے صوبائی گورنروں اور علاقائی عہدے داروں کی برطرفی کے اختیارات بھی اپنی ذات میں مرتکز کرلیے ہیں۔

وزیراعظم نے اصلاحات کے تحت مغربی شہر الرمادی میں داعش کے جنگجوؤں کے مقابلے میں اپنی پوزیشنوں سے پسپا ہونے والے فوجی کمانڈروں کے کورٹ مارشل کی منظوری دے دی ہے۔عراق کی ایک تحقیقاتی کونسل نے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والے ان فوجی کمانڈروں کے کورٹ مارشل اور شمالی شہر موصل پر گذشتہ سال جون میں داعش کے قبضے اور فوج کی شکست کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی تھی۔اس تحقیقاتی کونسل نے سابق وزیراعظم نوری المالکی سمیت اعلیٰ عہدے داروں کو موصل سے عراقی فورسز کی پسپائی اور وہاں داعش کے قبضے کا ذمے دار قرار دیا ہے۔

واضح رہے کہ عراق کے سرکردہ عالم دین آیت اللہ علی السیستانی نے وزیراعظم سے ملک سے بدعنوانیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا اورکہا تھا کہ اس کے ذمے داروں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے۔ ان کے اس مطالبے پر یہ اصلاحات کی جارہی ہیں۔اکھاڑ پچھاڑ کے اس عمل میں بہت سے سرکاری عہدے سرے سے ختم کردیے گئے ہیں۔