.

بے ہوش بھوک ہڑتالی فلسطینی کومے سے باہر آ گیا

اپنی رہائی کے لئے اسرائیل کو 24 گھنٹے کی مہلت دیدی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی ایک جیل میں گذشتہ دو ماہ سے مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث کومے میں چلے جانے والے فلسطینی کو دوبارہ ہوش آ گیا ہے اور اس نے ایک بار پھر اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق بھوک ہڑتالی قیدی نے صہیونی حکام کو اپنی رہائی کے لیے چوبیس گھنٹے کی ڈیڈ لائن دی ہے، امکان ہے کہ آج یا کل کے روز اسے رہا کر دیا جائے گا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فلسطین میں قیدیوں کےامور پر نظر رکھنےوالے ادارے "کلب برائے اسیران" کی جانب سے جاری ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ بھوک ہڑتالی قیدی نے کل منگل کے روز اسرائیلی اسپتال میں دوبارہ آنکھیں کھولیں اور ہوش میں آنے کے بعد کہا کہ وہ تا دم مرگ یا رہائی تک بھوک ہڑتال جاری رکھے گا۔ اس نے ڈاکٹروں کی موجودگی میں اسرائیلی فوجیوں کو للکارا اور ان سے کہا کہ وہ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کی رہائی کا انتظام کریں ورنہ وہ دوائی لے گا اور نہ پانی پیے گا"۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بھوک ہڑتالی فلسطینی محمد علان اس وقت جزیرہ نما النقب کی "برزیلائے" استپال میں فوج کی تحویل میں ہے۔ گذشتہ روز اسے مکمل طور پر ہوش تھا اور اس نے بھوک ہڑتال جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ اس نے خوراک کی نالی کے ذریعے دوائی یا خوراک دیے جانے کے تمام اسرائیلی ہتھکنڈوں کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ اگلے چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس کا مسئلہ حل کیا جائے۔

بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی کا کہنا تھا کہ ڈاکٹروں نے میرا تفصیلی طبی معائنہ کرلیا ہے۔ اس کے بعد مزید اسپتال میں رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں ہرطرح کے کھانے پینے کا بائیکاٹ کررہا ہو۔ اگلے چوبیس گھنٹے اس حوالے سے بہت اہم ہیں۔

ادھراسرائیلی عدالت بھی بھوک ہڑتالی فلسطینی اسیر کی رہائی سے متعلق دی گئی ایک درخواست پر آج بدھ کو پھر سماعت کر رہے ہے۔ قبل ازیں سوموار کو اسرائیلی سپریم کورٹ میں محمد علان کی رہائی سے متعلق درخواست کی سماعت کی گئی ہے۔ اسرائیلی حکام کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا تھا کہ علان کو چار سال کے لیے جلا وطن کیے جانے کی شرط پر رہا کیا جا سکتا ہے تاہم اسیر کے وکلاء نے جلا وطنی کی صہیونی پیشکش مسترد کر دی ہے۔

اسیر کے وکیل جمیل الخطیب کا کہنا ہے کہ ہمیں محمد علان کی جلا وطنی کی شرط پر رہائی کسی صورت میں قبول نہیں ہے۔ علان فلسطینی شہری ہے اور اسے فلسطین میں رہنے کا حق حاصل ہے۔

اُدھر برزیلائے اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ محمد علان کی حالت زیادہ خطرے میں نہیں اور نہ ہی ناقابل علاج ہے تاہم اگر بھوک ہڑتال جاری رہتی ہے تو قیدی کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

یاد رہے کہ محمد علان کو پچھلے سال نومبر میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کا تعلق فلسطین کی عسکری تنظیم اسلامی جہاد کے ساتھ ہے۔ گرفتاری کے بعد اسے چھ ماہ انتظامی حراست میں رکھا گیا تھا۔ چھ ماہ کی قید ختم ہونے کے بعد اس میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی گئی تو علان نے اس کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کر دی۔ اس کی بھوک ہڑتال کو آج انیس اگست کو 65 دن ہو چکے ہیں۔

انتظامی حراست کا قانون سب سے پہلے فلسطین میں برطانیہ نے مشکوک افراد کو اپنی تحویل میں رکھنے کے لیے نافذ کیا تھا۔ فلسطین میں صہیونی ریاست کے قیام کے بعد برطانوی دور کے کئی دیگر ظالمانہ قوانین کی طرح انتظامی حراست کے قانون کو بھی برقرار رکھا گیا۔ اسلامی جہاد نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھوک ہڑتال کے باعث اس کے کارکن کی جان چلی گئی تو اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی ختم ہو جائے گی۔