.

حماس پر اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کا الزام، فتح برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطینی اتھارٹی نے الزام عاید کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کی حکمراں جماعت اسلامی تحریک مزاحمت 'حماس' اسرائیل سے خفیہ مذاکرات کے ذریعے فلسطین کو تقسیم کرنے کی سازش کررہی ہے۔ دوسری جانب حماس نے فلسطینی اتھارٹی کے الزام کو بھونڈا مذاق قرار دیا ہے تاہم صدر محمود عباس کی جماعت تحریک 'فتح' نے بھی حماس کے اسرائیل سے پس چلمن مذاکرات پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حالیہ ایام میں عرب اور ترک ذرائع ابلاغ نے حماس اور اسرائیل کے درمیان جاری خفیہ مذاکرات کی رپورٹس شائع کی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے دفترسے جاری ہونے والے ایک بیان میں حماس کے ساتھ مذاکرات کی باضابطہ طورپر تردید کی گئی ہے اور کہا ہے کہ تل ابیب اور حماس کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ کسی بھی شکل میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔

ذرائع ابلاغ میں آنے والی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس اسرائیل کے ساتھ جاری بات چیت میں غزہ کی پٹی کا محاصرہ اٹھانے اور 8 سے 10 سال تک جنگ بندی تجاویز پیش کی گئی ہیں۔

فرانسیسی ٹیلی ویژن چینل" فرانس 24" کو ایک انٹرویو میں فلسطینی اتھارٹی کے وزیرخارجہ ریاض المالکی نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ حماس اور اسرائیل خفیہ بات چیت میں غزہ کی پٹی میں آٹھ سے دس سال تک جنگ بندی معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حماس کی جانب سے جنگ بندی کے بدلے میں مصر غزہ کا محاصرہ اٹھانے اور غزہ کو اسرائیل کی نگرانی میں شمالی قبرص تک بحری راہداری دینے پربھی تیار ہے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا فریقین میں مبینہ معاہدے کو حتمی شکل کب تک دی جاسکتی ہے تو فلسطینی وزیرخارجہ نے کہا کہ اس بارے میں ہم نہیں جانتے کہ کل کو یہ معاہدہ طے پاتا ہے یا ایک مہینا لگتا ہے تاہم ثالث کم سے کم وقت میں معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

تحریک فتح کی برہمی

دوسری جانب صدر محمود عباس کی جماعت جو اسرائیل کے ساتھ خود تو براہ راست اور بالواسطہ مذاکرات کی حامی رہی ہے حماس کے اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابطہ پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ فتح کے ترجمان احمد عساف نےریڈیو "وائس آف فلسطین" سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حماس اور اسرائیل کے درمیان خفیہ بات چیت کی ثالثی کرنے والوں میں سابق برطانوی وزیراعظم اور گروپ چار کے سابق مندوب ٹونی بلیئر بھی شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں احمد عساف کا کہنا حماس کا ٹونی بلیئرکے ذریعے اسرائیل سے سمجھوتا کرنا قومی اجماع، فلسطین کی آئینی پالیسی سے بغاوت اور قوم میں پھوٹ ڈالتے ہوئے فلسطین کو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کی سازش کرنا ہے۔ انہوں نے الزام عاید کیا کہ حماس فلسطین کے قومی پروگرام کی قیمت پر اسرائیل کوتسلیم کرنا چاہتی ہے۔

ادھر غزہ کی پٹی میں حماس کے مرکزی رہ نما اور سابق وزیراعظم اسماعیل ھنیہ غزہ کو فلسطین سے الگ کرکے ایک ریاست قائم کرنے کے تصور کو یکسر مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حماس فلسطین کے ایک انچ رقبے سے بھی دستبردار نہیں ہوگی۔ غزہ کو فلسطین سے کاٹ کر الگ ملک بنانے کا الزام بھونڈا مذاق ہے۔