.

شام : فلسطینی مہاجرین کے کیمپ میں ٹائیفائیڈ بخار کی وبا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کے لیے ریلیف اور ورکس ایجنسی (اُنروا) نے اطلاع دی ہے کہ شامی دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع محاصر زدہ یرموک کیمپ میں ٹائیفائیڈ بخار وبائی شکل اختیار کرتا جارہا ہے اور گذشتہ روز چھے کیسوں کی تصدیق ہوئی ہے۔

اُنروا کے ترجمان کرسٹوفر گننس نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان کے عملے کو یرموک کیمپ کے مشرق میں واقع علاقے یلدہ تک 8 جون کے بعد پہلی مرتبہ رسائی حاصل ہوگئی ہے۔اس جگہ بے گھر ہونے والے فلسطینی اور شامی شہری مقیم ہیں۔

اُنروا نے وہاں ایک موبائل یونٹ قائم کرکے مکینوں کو طبی مشورے دینا شروع کردیے ہیں اور منگل کے روز طبی ماہرین نے وہاں دو سو گیارہ افراد کا معائنہ کیا تھا اور ٹائیفائیڈ کے چھے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس کو یرموک ،یلدہ اور دو اور نواحی علاقوں بابلہ اور بیت سحم میں بھی ٹائیفائیڈ کے پھیلنے کی قابل اعتبار رپورٹس ملی ہیں۔اس کو محدود طبی خدمات ،پینے کا صاف پانی اور حفظان صحت کی سہولتیں مہیا کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

امریکا کے مرکز برائے کنٹرول اور انسداد امراض کے مطابق ٹائیفائیڈ سے انسانی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔یہ بیماری بیکٹیریا سالمونیلا ٹائفی سے لاحق ہوتی ہے۔یہ آلودہ خوراک کھانے اور آلودہ پانی پینے سے پھیلتی ہے۔اس کا بالعموم اینٹی بائیوٹک ادویہ کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے لیکن اگر بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ مرض مہلک بھی ثابت ہوسکتا ہے۔

اُنروا کے کمشنر جنرل پائیری کراہنبول نے جون میں ایک بیان میں بتایا تھا کہ یرموک کیمپ میں مارچ 2011ء میں شام میں خانہ جنگی چھڑنے سے قبل قریباً ایک لاکھ ساٹھ ہزار فلسطینی مقیم تھے۔ان میں سے بہت سے برسرروزگار تھے لیکن گذشتہ چار سال کے دوران کیمپ میں مختلف جنگجو گروپوں کے درمیان لڑائی کے بعد وہاں سے ہزاروں فلسطینی دوسرے مقامات کی جانب چلے گئے ہیں اور اب ان تک اُنروا کی رسائی نہیں رہی ہے۔ترجمان گننس کا کہنا تھا کہ اب انروا کی ترجیح یرموک کیمپ میں مقیم شہریوں تک انسانی امداد مہیا کرنا ہے۔

یرموک کیمپ میں شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز اور باغی جنگجو گروپوں کے درمیان متعدد مرتبہ لڑائی ہوچکی ہے۔داعش، القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرۃ محاذ اور دوسرے باغی جنگجو گروپ اس کیمپ پر قبضے کے لیے متعدد مرتبہ یلغار کرچکے ہیں۔

یرموک کیمپ میں اس وقت قریباً اٹھارہ ہزار فلسطینی مہاجرین مقیم ہیں۔وہ شامی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان لڑائی کے نتیجے میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں اور انھیں ضروریات زندگی دستیاب نہیں ہیں۔ ماضی میں النصرۃ محاذ اور شامی فوج کے درمیان جھڑپوں کے بعد کیمپ کے مکینوں کو کئی کئی دن تک ایک وقت کا بھی کھانا نہیں مل سکا تھا اور وہ فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے تھے۔