.

نئی فلسطینی انتفاضہ شروع ہوسکتی ہے:اسرائیلی اپوزیشن لیڈر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے قائد حزبِ اختلاف نے خبردار کیا ہے کہ اگر تشدد کی حالیہ لہر روکی نہیں گئی تو ایک نئی فلسطینی انتفاضہ تحریک شروع ہوسکتی ہے۔انھوں نے دونوں فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ تشدد کے حالیہ واقعات کی روک تھام اورامن مذاکرات کی بحالی کے لیے کام کریں۔

اسرائیل کی حزب اختلاف کی جماعت صہیونیت یونین کے لیڈر اسحاق ہرزوگ نے مغربی کنارے کے شہر رام اللہ میں فلسطینی صدر محمود عباس سے منگل کے روز ملاقات کی ہے اور اس کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے۔دونوں کے درمیان فلسطینی شہر میں یہ پہلی بالمشافہ ملاقات ہے۔

انھوں نے صحافیوں کو بتایا کہ انھوں نے صدر محمود عباس کے ساتھ ایک گھنٹے تک تفصیلی تبادلہ خیال کیا ہے اور انھوں نے بگڑتی ہوئی صورت حال پر قابو پانے اور ایک نئی فلسطینی انتفاضہ کو پھوٹ پڑنے سے روکنے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔

اسرائیلی لیڈر نے کہا کہ ''ہمیں سب سے پہلے انتفاضہ کو روکنا ہوگا۔ہم نے اس بات سے اتفاق کیا ہے کہ ہمیں تیسری انتفاضہ کو روکنے کے لیے ایک جانب تو دہشت گردی سے جارحانہ انداز سے نمٹنا ہوگا اور دوسرا سفارتی عمل کی جانب بڑھنا ہوگا''۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں امن عمل شروع کرنے کے لیے ایک اور کوشش کرنا ہوگی۔

انھوں نے فلسطینی صدر سے ایسے وقت میں ملاقات کی ہے جب غرب اردن میں کشیدگی پائی جارہی ہے اور قریباً روزانہ ہی تشدد کا کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوتا ہے۔آج ہی غرب اردن میں سیکڑوں فلسطینیوں نے گذشتہ روز اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے نوجوان کی نماز جنازہ میں شرکت کی ہے۔اس فلسطینی کو ایک اسرائیلی پولیس اہلکار پر چاقو کا وار کرنے کے الزام میں موقع پر ہی گولی مار کر شہید کردیا گیا تھا۔

غربِ اردن کے ایک گاؤں دوما میں 31 جولائی کو یہودی انتہا پسندوں نے ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو آتش گیر بم سے حملہ کرکے جلا دیا تھا۔اس واقعے میں اٹھارہ ماہ کا ایک بچہ زندہ جل گیا تھا اور اس کا بڑا بھائی اور والدین شدید زخمی ہوگئے تھے۔مکان میں آتش زدگی سے اس کے والد کے جسم کا اسّی فی صد حصہ جل گیا تھا اور وہ اسپتال میں کئی روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد چل بسے ہیں۔اس واقعے کے بعد اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں تین فلسطینی شہید ہوچکے ہیں۔ان تینوں پر اسرائیلی پولیس اہلکاروں کو چاقو گھونپنے کا الزام عاید کیا گیا تھا۔