.

حماس کے چار کارکنان غزہ سے قاہرہ جاتے ہوئے اغوا

مسلح افراد بس میں سوار حماس کے کارکنان کو شناخت کے بعد ساتھ لے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نامعلوم مسلح افراد نے غزہ شہر سے مصری دارالحکومت قاہرہ کی جانب آنے والی ایک بس میں سوار حماس کے چار کارکنان کو اغوا کر لیا ہے۔

مصر کے سکیورٹی حکام کے مطابق یہ واقعہ بدھ کی رات سیناء کے سرحدی علاقے میں پیش آیا تھا۔ان کے بہ قول چار نامعلوم مسلح افراد نے غزہ اور مصر کے درمیان واقع رفح بارڈر کراسنگ کے نزدیک بس کو روکا تھا۔انھوں نے بس کے ڈرائیور پر پہلے حملہ کیا تھا اور پھر حماس کے چار کارکنان کو شناختی دستاویز سے پہچاننے کے بعد ساتھ لے گئے۔

فوری طور پر ان مسلح افراد کی شناخت معلوم نہیں ہوسکی ہے۔بس میں کل پچاس افراد سوار تھے۔حماس نے مصر پر اپنے ان کارکنان کے اغوا کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ ایک ''سکیورٹی بغاوت'' ہے اور اس سے تنظیم کے قاہرہ کے ساتھ تعلقات مزید بگڑ سکتے ہیں۔

مصری حکام کے مطابق اغوا کاروں نے پاکستانی طرز کا لباس پہن رکھا تھا۔واضح رہے کہ مصر کے شورش زدہ علاقے شمالی سیناء میں برسر پیکار بعض جنگجوؤں نے فلیتے اور بیج لگا جہادیوں والا لباس پہنا ہوتا ہے اور یہ لباس پاکستان اور افغانستان میں عام ہے۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ جب مسلح افراد نے بس پر دھاوا بولا تو اس وقت اس کے ہمراہ پولیس کا حفاظتی دستہ بھی جارہا تھا یا نہیں۔حماس نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ پولیس کا دستہ موجود تھا۔

رفح بارڈر کراسنگ سے قاہرہ جانے والی شاہراہ شورش زدہ علاقے شمالی سیناء سے گزرتی ہے۔اس علاقے میں داعش سے وابستہ جہادیوں نے مصری سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن مصری فوجیوں اور پولیس اہلکار پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

شمالی سیناء میں شورش کے بعد اہل غزہ چاروں طرف سے بالکل ہی اپنے علاقے میں مقید ہو کر رہ گئے ہیں کیونکہ وہ پہلے رفح بارڈر کراسنگ کے ذریعے مصر کی جانب آزادانہ آ اور جاسکتے تھے۔غزہ کی پٹی کے دوسرے سرحدی علاقوں کی اسرائیلی فورسز نے بحری اور برّی ناکا بندی کررکھی ہے۔

حماس نے کچھ عرصہ قبل داعش سے وابستہ جہادی جنگجوؤں کو گرفتار کر لیا تھا۔داعش نے ان کی گرفتاری کے بعد حماس کے عسکری ونگ کو بم دھماکوں کی دھمکی دی تھی مگر اب حماس نے اپنے بیان میں مصر کو اپنے کارکنان کے اغوا کا مورد الزام ٹھہرایا ہے اور کہا ہے کہ وہ قاہرہ حکومت کے ساتھ ان کی بازیابی کے لیے رابطے میں ہے۔

حماس نے کہا ہے کہ اس کے کارکنان مصری سکیورٹی فورسز کی جانب سے اجازت نامہ ملنے کے بعد رفح بارڈر کراسنگ میں داخل ہوئے تھے اور وہ انھیں مصری علاقے میں داخل ہونے سے روک سکتے تھے۔

حماس اور مصر کے درمیان جولائی 2013ء میں منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی برطرفی کے بعد سے تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں۔ڈاکٹر مرسی اور ان کی کالعدم جماعت اخوان المسلمون حماس کی ہمدرد اور پشتی بان تھے،مگر ان کی برطرفی کے بعد مصری سکیورٹی فورسز نے اسلام پسند مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا تھا اور اب تک اخوان اور دوسری اسلامی جماعتوں کے ہزاروں کارکنان کو گرفتار کرنے کے بعد پابند سلاسل کیا جاچکا ہے۔