.

ترکی: شام کے جیش الحر کا کمانڈر بم دھماکے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے باغی جنگجوؤں اور منحرف فوجیوں پر مشتمل جیش الحُر کا ایک کمانڈر ترکی کے جنوبی صوبے حاتے میں ایک بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا ہے۔

شامی باغیوں کے ذرائع اور ترک حکام کے مطابق جیش الحر کے کمانڈر کا نام جمیل رضوان تھا اور ان کی کار کو بدھ کے روز بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔وہ جیش الحر کے بینر تلے لڑنے والے ایک گروپ سکورالغاب کے کمانڈر تھے۔ ان پر اس سے پہلے اپریل میں ترکی ہی میں اسی طرح کا بم حملہ کیا گیا تھا لیکن وہ اس میں بال بال بچ گئے تھے۔

ترکی کی غیرسرکاری خبررساں ایجنسی دوغان کے مطابق کمانڈر رضوان شام کی سرحد کے نزدیک واقع جنوب مشرقی قصبے انطاکیہ میں رہ رہے تھے اور بم دھماکا ان کے مکان کے باہر ہوا ہے جس سے نزدیک واقع اپارٹمنٹ بلاکس بھی لرز کر رہ گئے۔

صوبہ حاتے کے گورنر ایرجن طپاچا نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ان پر بم حملہ شامی حزب اختلاف کے گروپوں کے درمیان لڑائی کا بھی شاخسانہ ہوسکتا ہے۔ان کے بہ قول رضوان شام میں 2011ء کے وسط میں صدر بشارالاسد کے خلاف مسلح عوامی احتجاجی تحریک کے اوائل ہی میں فوج سے منحرف ہوگئے تھے اور وہ گذشتہ قریباً ایک سال سے ترکی میں رہ رہے تھے۔

جیش الحر کے ترجمان اسامہ ابو زید نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقتول کمانڈر کا بریگیڈ شام کے شمالی صوبے حلب میں داعش کے جنگجوؤں اور وسطی صوبوں ادلب اور حماہ میں صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کے خلاف لڑتا رہا ہے۔

ترجمان کے بہ قول ان کے تحت بریگیڈ کو مغرب میں اعتدال پسند قرار دیا جاتا تھا لیکن اس کو عسکری تربیت نہیں دی گئی تھی۔ البتہ اس کو صدر بشارالاسد کے مخالف ممالک کی جانب سے ٹینک شکن میزائلوں سمیت فوجی امداد مہیا کی گئی تھی۔