شامی فوج حمص میں بھی کیمیائی حملوں کی مرتکب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

#شام میں صدر #بشار_الاسد کی وفادار فوج کی جانب سے مخالفین کے خلاف مہلک اور عالمی سطح پر ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا غیرقانونی سلسلہ جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق شامی فوج نے دارالحکومت #دمشق کے نواحی علاقے مشرقی #الغوطہ کے بعد #حمص کے علاقے شمالی الرستن میں بھی #کیمیائی_ہتھیاراستعمال کیے ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق ایک سال قبل سلامتی کونسل نے قرارداد 2118 میں شامی حکومت پر کیمیائی ہتھیاروں اور مہلک گیسیں خارج کرنے والے اسلحہ کے استعمال پابندی عاید کی تھی مگر دمشق سرکاری کی جانب سے سلامتی کونسل کی قرارداد کی مسلسل پامالی جاری ہے۔ ماہرین کو حمص میں شمالی الرستن میں بھی شامی فوج کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے شواہد ملے ہیں۔

دوسری جانب شام کے حزب اختلاف کے اتحاد کی جانب سے شمالی الرستن میں اسدی فوج کے ہاتھوں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے جنیوا معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اپوزیشن نے شامی فوج کی جانب سے نہتے شہریوں پرکیمیائی ہتھیاروں کےحملوں کی عالمی سطح پر تحقیقات کامطالبہ کرتے ہوئے اس میں ملوث شامی حکومت کے خلاف سخت کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

اپوزیشن اتحاد کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2235 کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تحقیقات اور اس میں ملوث عہدیداروں کے تعین کے بعدان کے خلاف قانونی کارروائی کی سفارش کرتی ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس قرارداد پرعمل درآمد کرتے ہوئے شمالی الرستن میں کیمیائی حملوں میں ملوث شامی فوجیوں کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے۔

شام کی اپویشن الائنس کے سیکرٹری جنرل محمد یحیٰی مکتبی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اور عالمی اداروں کے ہاں شامی فوج کےہاتھوں انسانیت کے خلاف جرائم کے ہزاروں ناقابل تردید شواہد موجود ہیں جو شامی حکومت اور اس کی فوج کے خلاف عالمی چارہ جوئی کے لیے کافی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں