لبنان: مظاہرین کا بیروت میں وزارتِ ماحولیات پر دھاوا

وزیرماحول دفتر میں یرغمال، مظاہرین کا مطالبات تسلیم ہونے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کے دارالحکومت بیروت میں کچرے کی تلف کا کوئی معقول بندوبست نہ ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور بیسیوں مظاہرین نے منگل کے روز وزارتِ ماحولیات پر دھاوا بول دیا ہے۔انھوں نے وزیر ماحول محمد المشنوق کو ان کے دفتر میں یرغمال بنا لیا ہے اور وہ ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

بیروت میں کچرے کے خلاف تحریک چلانے والے نوجوانوں کے گروپ نے اپنی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر پوسٹ کی ہے جس میں وہ فرش پر بیٹھے ہوئے ہیں اور وزیر ماحول کے خلاف نعرے بازی کررہے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے بیروت سے اطلاع دی ہے کہ مشنوق وزارت ماحول کی عمارت میں اپنے دفتر کے اندر موجود ہیں اور عمارت کا مظاہرین نے محاصرہ کررکھا ہے۔

مظاہرین نے حکومت کو اختتام ہفتہ پر اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے 72 گھنٹے کی ڈیڈلائن دی تھی۔یہ آج ختم ہورہی ہے۔مظاہرے میں شریک ایک کارکن لوشین بورجیلی کا کہنا ہے کہ حکومت نے ہمارے مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور انھوں نے واضح اعلان کیا ہے کہ وزیر مستعفی نہیں ہوں گے۔ہم ان کے استعفے کا مطالبہ کررہے ہیں اور جب تک ایسا نہیں ہوتا ہے ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔

بیروت میں کوڑا کرکٹ کی تلفی کے لیے پلانٹ کو جولائی کے وسط میں بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد شہر میں ہر طرف کچرے کے ڈھیر لگ گئے تھے اور حکومت بروقت کوئی متبادل بندوبست کرنے میں ناکام رہی ہے۔اب شہری اس کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں اور انھیں لبنان کے بعض متحارب سیاسی دھڑوں کی حمایت بھی حاصل ہے۔

کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والی اس تحریک سے ملک میں ایک سیاسی بحران پیدا ہوچکا ہے اور مظاہرین گذشتہ ہفتے سے وزیرماحولیات کے استعفے ،نئے پارلیمانی انتخابات کرانے ،بلدیہ کو کچرا اٹھانے کی ذمے داری سونپنے اور مظاہرین کے خلاف تشدد کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

اس تحریک نے ہفتے کے روز ایک بڑے احتجاجی مظاہرے کے بعد حکومت کو اپنے مطالبات کی منظوری کے لیے 72 گھںٹے کی ڈیڈ لائن دی تھی۔یہ ڈیڈلائن منگل کی رات ختم ہورہی ہے۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ حکومت اگر ان کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کرتی ہے تو پھر وہ اپنے آیندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں