ایلان کردی، اس کے بھائی اور والدہ کی کوبانی میں تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے پانیوں میں کشتی کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے شامی بچے ایلان کردی ،اس کے بھائی اور والدہ کی میتیں تدفین کے لیے شام کے سرحدی قصبے کوبانی (عین العرب) میں پہنچا دی گئی ہیں۔

اس بدقسمت خاندان سمیت بارہ شامی سمندر میں کشتی الٹنے سے بے رحم موجوں کی نذر ہوگئے تھے۔اس حادثے میں ایلان کردی کے والد عبداللہ کردی کو بچا لیا گیا تھا اور وہی ان کی میتیں تدفین کے لیے ترکی سے اپنے آبائی قصبے کوبانی لائے ہیں۔ان کی کوبانی کے قبرستان میں تدفین کردی گئِی ہے۔

ان تینوں کی میتوں لے کر متعدد گاڑیوں پر مشتمل قافلہ جمعہ کو ترکی کے سرحدی قصبے سوروچ سے کوبانی میں داخل ہوا تھا۔ترکی کے بعض ارکان پارلیمان بھی اس قافلے میں شامل تھے۔ تاہم صحافیوں اور سوگوار خاندان کے خیر خواہوں کو تین کلومیٹر دور سرحد پر روک لیا گیا تھا اور انھیں شامی علاقے میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔

ترکی کے ساحلی علاقے میں کم سن ایلان کردی کی تیرتی ہوئی لاش کی تصویر کی بدھ سے سوشل میڈیا کے ذریعے مسلسل تشہیر جاری ہے اور دنیا بالخصوص یورپ کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو اب تک تارکینِ وطن کے سنگین مسئلے سے پہلوتہی کرتا چلا آ رہا ہے۔

اس بچے سمیت بارہ شامی مہاجر ترکی سے یوناںی جزیرے کوس کی جانب جانے کی کوشش کے دوران سمندری لہروں کی نذر ہو گئے تھے۔ان کی کشتی گنجائش سے زیادہ افراد سوار ہونے کی وجہ سے حادثے کا شکار ہو گئی تھی۔ اس حادثے میں ایلان کردی کا پانچ سالہ بڑا بھائی غالب اور والدہ ریحان بھی موت کے منھ میں چلے گئے تھے۔ان دونوں کم سن بھائیوں کے علاوہ تین اور بچے بھی مارے گئے تھے۔ترکی کے ساحلی محافظوں نے حادثے کے بعد پندرہ افراد کو زندہ بچا لیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں