.

شامی مہاجرین کو اسرائیل میں پناہ دینے کا مطالبہ مسترد

اسرائیل بہت چھوٹا ملک ہے،شامی مہاجرین کو پناہ نہیں دے سکتا: نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کے انتہا پسند وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے صہیونی ریاست میں شامی مہاجرین کو پناہ دینے سے متعلق قائدِ حزبِ اختلاف کا مطالبہ مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا ملک بہت چھوٹا ہے اور وہ شامی مہاجرین کو پناہ نہیں دے سکتا ہے۔

حزبِ اختلاف کی بڑی جماعت صہیونیت یونین پارٹی کے سربراہ اسحاق ہرزوگ نے اسرائیلی قائدین سے اپیل کی ہے کہ وہ شام میں لڑائی سے متاثرہ مہاجرین کے لیے سرحدی کھول دیں اورانھیں اپنے ہاں قبول کریں۔

اس کے ردعمل میں نیتن یاہو نے اتوار کو کابینہ کے اجلاس میں کہا ہے کہ ''اسرائیل شامی مہاجرین کے انسانی المیے سے الگ تھلگ نہیں ہے اور اسرائیلی اسپتالوں میں خانہ جنگی کے نتیجے میں زخمی ہوکر آنے والے شامیوں کا علاج کیا جارہا ہے''۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ''اسرائیل ایک بہت چھوٹی ریاست ہے۔اس کی کوئی جغرافیائی یا ڈیموگرافی گہرائی نہیں ہے''۔دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عرب مہاجرین کو پناہ دینے سے اسرائیل کی آبادی کا توازن بگڑ سکتا ہے۔واضح رہے کہ صہیونی ریاست کی کل قریباً تراسی لاکھ آبادی کا ہرپانچواں فرد عرب شہری ہے۔

اسرائیل شام کے ساتھ 1967ء کی جنگ کے بعد سے حالتِ جنگ میں ہے۔اس سے بین الاقوامی سطح پر شامی مہاجرین کے لیے سرحدی کھولنے کا کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا ہے لیکن اپوزیشن لیڈر اسحاق ہرزوگ نے اپنے طور پر نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ شامی مہاجرین کو قبول کرنا ان کی اخلاقی ذمے داری ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''یہودی عوام کے وزیراعظم کو اپنے دل اور دروازوں کو ایسے وقت میں بند نہیں کرنا چاہیے جب لوگ اپنے بازوؤں میں بچے لیے جانیں بچانے کے لیے بھاگ دوڑ کررہے ہیں''۔

دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی شام میں مہاجر کیمپوں میں برسوں سے مقیم فلسطینیوں کو مقبوضہ مغربی کنارے میں آنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شام میں ان فلسطینی مہاجرین کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیل کا یہ مؤقف ہے کہ فلسطینی مہاجرین کی واپسی کے مسئلے کو حتمی امن معاہدے کے تحت حل کیا جانا چاہیے مگر اسرائیلی قیادت اس دیرینہ تنازعے کو طے کرنے کے لیے فلسطینیوں کے ساتھ مذاکرات کی میز پر مل بیٹھنے ہی کو تیار نہیں اور فریقین کے درمیان اپریل 2014ء سے مذاکرات منقطع ہیں۔

نیتن یاہو نے کابینہ کے ہفتہ وار اجلاس میں شامی مہاجرین کے کے مسئلے کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کو افریقی تارکین وطن اور اسلامی جنگجوؤں کے داخلے کو روکنے کے لیےاپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا چاہیے۔انھوں نے اردن کی سرحد کے ساتھ تیس کلومیٹر لمبی ایک نئی باڑ لگانے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل نے اس سے پہلے 2013ء میں مصر کے ساتھ واقع اپنی سرحد پر دو سو تیس کلومیٹر طویل آہنی رکاوٹیں لگائی تھیں اور کنکریٹ کی دیوار کھڑی کی تھی۔اس نے لبنان کے ساتھ واقع اپنی سرحد اور اپنے زیر قبضہ گولان کی چوٹیوں اور شام کے درمیان حد متارکہ جنگ پر بھی باڑ لگائی ہوئی ہے۔

اسرائیل نے اپنے زیر قبضہ غرب اردن سے فلسطینیوں کے داخلے کو روکنے کے لیے بھی لوہے کی باڑ اور کنکریٹ کی دیوار تعمیر کررکھی ہے اور حماس کی عمل داری والے فلسطینی علاقے غزہ کی پٹی کی اسرائیل کے ساتھ واقع سرحد پر بھی طویل باڑ اور کنکریٹ کی دیوار تعمیر کر رکھی ہے۔