عراقی فضائیہ کے نئے ایف 16 طیاروں سے داعش پر حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق نے حال ہی میں امریکا سے ملنے والے چار فائٹر فالکن (ایف 16) لڑاکا طیاروں کے ذریعے پہلی مرتبہ سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔

عراقی فضائیہ کے سربراہ اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل انور حما امین نے اتوار کے روز بغداد میں نیوز کانفرنس میں بتایا ہے کہ ''گذشتہ چار روز کے دوران میں ایف سولہ لڑاکا طیاروں نے پندرہ فضائی حملے کیے ہیں اور ان حملوں میں ہلکے ہتھیار استعمال کیے گئے ہیں''۔

مگر انھوں نے ان ہتھیاروں کی توضیح نہیں کی ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ ''ایف 16 لڑاکا طیاروں نے بغداد سے شمال میں واقع صوبوں صلاح الدین اور کرکوک میں داعش کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے''۔وزیردفاع خالد العبیدی نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا کہ ''ان حملوں سے اہم نتائج حاصل ہوئے ہیں اور مستقبل میں داعش کے خلاف کارروائیوں میں یہ جیٹ طیارے موثر ثابت ہوں گے''۔

امریکا نے چھتیس ایف 16 لڑاکا طیاروں میں سے چار جولائی میں عراق بھیجے تھے اور یہ دارالحکومت بغداد سے قریباً ستر کلومیٹر شمال میں واقع بلد شہر کے ہوائی اڈے پر اُترے تھے۔بلد شہر میں سکیورٹی خدشات کے پیش نظر امریکا سے عراق میں ان طیاروں کی آمد میں تاخیر ہوئی ہے۔اس سال کے اوائل میں بلد کے نزدیک داعش کے جنگجوؤں اور عراق کی سرکاری فوج کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہی تھیں جس کے پیش نظر اس شہر کو لڑاکا جیٹ کی دیکھ بھال کی غرض سے آنے والے امریکی کنٹریکٹروں کے لیے غیر محفوظ خیال کیا جاتا تھا۔

معاہدے کے تحت ان تمام لڑاکا طیاروں کی آمد کے بعد عراقی فضائیہ کی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوگا۔یہ دوسرے طیاروں کے مقابلے میں جدید اور بہتر حربی صلاحیت کے حامل ہیں۔واضح رہے کہ عراقی فضائیہ اس وقت ازکار رفتہ سخوئی ایس یو 25 جیٹ ،سیسنا کارواں اور دوسرے پرانے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے داعش کے ٹھکانوں پر بمباری کررہی ہے۔

ایف 16 طیاروں کو اڑانے کے لیے امریکی ریاست ایریزونا میں عراقی ہوابازوں کو تربیت دی گئی ہے۔سال کے شروع میں ایک ایف 16 طیارہ تربیتی عمل کے دوران گر کرتباہ ہوگیا تھا اور ایک زیرتربیت عراقی پائیلٹ مارا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں