.

داعش کا شامی حکومت کے تیل کے آخری کنویں پر بھی قبضہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سخت گیر جنگجو گروپ دولت اسلامیہ عراق وشام (داعش) نے وسطی صوبے حمص میں واقع شامی حکومت کے زیر انتظام تیل کے آخری کنویں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے سوموار کو اطلاع دی ہے کہ حمص کے مشرق میں واقع جزال فیلڈ کو بند کردیا گیا ہے اور وہاں داعش کے جنگجوؤں اور شامی فوجیوں کے درمیان لڑائی جاری ہے۔لڑائی میں فریقین کا جانی نقصان بھی ہوا ہے مگر آبزرویٹری نے اس کی تفصیل نہیں بتائی ہے۔

شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے اسی علاقے میں جنگجوؤں کا ایک حملہ پسپا کردیا ہے۔بیان میں میں جزال کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔البتہ اس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پچیس جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے اور ان میں غیرشامی جہادی بھی شامل ہیں۔

سوشل میڈیا پر بعض تبصرہ نگاروں نے لکھا ہے کہ حمص کے اس صحرائی علاقے میں گذشتہ دو تین روز سے لڑائی ہورہی تھی اور باغی جنگجوؤں نے اتوار کے روز آئیل فیلڈ پر قبضہ کیا تھا۔

جزال درمیانے حجم کا کنواں ہے اور یہ داعش کے زیر قبضہ تاریخی شہر تدمر سے جنوب مغرب میں واقع ہے۔ اسی علاقے میں تیل کےعلاوہ معدنی ذخائر بھی موجود ہیں۔ شامی فوج مئی میں داعش کے تدمر پر قبضے کے بعد سے اس آئیل فیلڈ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے ہوئی تھی۔

درایں اثناء آبزرویٹری نے ایک اور اطلاع میں بتایا ہے کہ امریکا کی قیادت میں اتحادی ممالک کے لڑاکا طیاروں نے داعش کے دارالحکومت الرقہ پر بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں پانچ غیرملکیوں سمیت سولہ جہادی ہلاک ہوگئے ہیں۔

شام کے سرکاری ٹیلی ویژن کی اطلاع کے مطابق باغی جنگجوؤں نے دارالحکومت دمشق کے وسط میں بمباری کی ہے اور مارٹر گولے بھی فائر کیے ہیں جس سے ایک شہری ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔