زندہ جل جانے والے کم سن فلسطینی کی والدہ چل بسیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کے حملے میں زندہ جل جانے والے کم سن بچے کی والدہ بھی قریباً سوا مہینے تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد چل بسی ہیں۔

غربِ اردن میں واقع ایک گاؤں دوما میں 31 جولائی کو یہودی انتہا پسندوں نے ایک فلسطینی خاندان کے مکان کو آتش گیر مواد کے حملے میں نذرآتش کردیا تھا۔اس واقعے میں اٹھارہ ماہ کا علی دوابشہ زندہ جل گیا تھا اور اس کا بڑا بھائی اور والدین شدید زخمی ہوگئے تھے۔مکان میں آتش زدگی سے اس کے والد سعد دوابشہ کے جسم کا اسّی فی صد حصہ جل گیا تھا اور وہ اسپتال میں کئی روز تک موت وحیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد گذشتہ ماہ چل بسے تھے۔

علی کی ستائیس سالہ والدہ ریحام دوابشہ سوموار کو اسپتال میں اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گئی ہیں۔خاندان کا واحد فرد علی کا بڑا بھائی احمد اس وقت اسپتال میں زیر علاج ہے اور اس کی حالت بھی تشویش ناک ہے۔

اقوام متحدہ کے خصوصی رابطہ کار برائے مشرق وسطیٰ امن عمل نیکولے ملادینوف نے ایک بیان میں فلسطینی خاتون کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اس فلسطینی خاندان کے مکان کو نذرآتش کرنے والے انتہا پسند یہودیوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس حملے کو دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا تھا اور ان کی سکیورٹی کابینہ نے دائیں بازو کے متشدد یہودی گروپوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا حکم دیا تھا۔

اسرائیلی حکومت نے مشتبہ یہودی جنگجوؤں کے خلاف بالکل اسی طرح کے تفتیشی حربے استعمال کرنے کی بھی اجازت دے دی تھی جس طرح کے فلسطینی مزاحمت کاروں کے خلاف استعمال کیے جاتے ہیں۔اسرائیلی فورسز نے فلسطینیوں کے خلاف سیاسی تشدد کے ذمے داروں کے خلاف پکڑ دھکڑ کی کارروائیاں بھی شروع کی تھیں۔

فلسطینی خاندان کے مکان کو نذرآتش کیے جانے کے بعد سے غربِ اردن میں کشیدگی پائی جارہی ہے اور فلسطینی انتہا پسند یہودی آباد کاروں کی چیرہ دستیوں کے خلاف متعدد مرتبہ احتجاجی مظاہرے کرچکے ہیں۔بعض فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے انتہا پسند یہودیوں سے انتقام لینے کا بھی اعلان کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں