لبنان: کوڑا کرکٹ ٹھکانے لگانے کے منصوبے پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

لبنان کی حکومت نے دارالحکومت بیروت میں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے ایک منصوبے سے اتفاق کیا ہے جس کے بعد گذشتہ قریباً دو ہفتوں سے جاری بحران حل ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔

لبنانی کابینہ نے بدھ کی رات ایک ہنگامی اجلاس میں ایک طویل المیعاد منصوبے کی منظوری دی ہے۔اس کے تحت بلدیاتی اداروں (میونسپیلیٹیز) کو کچرے کی تلفی کے لیے مرکزی کردار سونپا گیا ہے۔وہی اب کچرے کو ٹھکانے لگانے کی ذمے دار ہوں گی۔کوڑا کرکٹ کو شام کی سرحد کے نزدیک واقع شہر عکار اور مثنیٰ کے علاقوں میں دو مقامات پر تلف کیا جائے گا۔

لبنان کے وزیرزراعت اکرم شہیب نے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ '' کابینہ نے ایک ماحولیاتی حل سے اتفاق کیا ہے۔یہ منصوبہ تمام شرائط پر پورا اترتا ہے اور یہ پائیدار اور محفوظ بھی ہے''۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ آیا اس منصوبے کی پارلیمان سے منظوری حاصل کرنا ضروری ہوگا یا نہیں اور آیا بیروت کی سڑکوں پر احتجاج کرنے والے اس کو قبول کرلیں گے یا نہیں۔

لبنانی کابینہ کا چند گھنٹے تک جاری رہنے والا یہ اجلاس ''قومی ڈائیلاگ'' کے بعد منعقد ہوا تھا لیکن ان میں بحران کے خاتمے کے لیے کوئی اتفاق رائے نہیں ہوسکا تھا۔ایک لبنانی ترجمان کا کہنا تھا کہ آیندہ اجلاس ایک ہفتے کے دوران ہی دوبارہ منعقد کیا جائے گا۔

لبنانی سکیورٹی فورسز نے قبل ازیں بیروت کے وسطی علاقے کو مکمل طور پر بند کردیا تھا جبکہ مظاہرین حکومت کی ناکامیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔فوجیوں نے مظاہرین کو سرکاری عمارتوں کی جانب نہیں جانے دیا اور انھوں نے خاردار تار لگا کر راستے بند کردیے تھے۔

لبنانی شہری 29 اگست سے بیروت میں کچرے کو تلف کرنے کا کوئی معقول بندوبست نہ ہونے کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہے تھے اور بیسیوں مظاہرین نے گذشتہ منگل کے روز وزارتِ ماحولیات پر دھاوا بول دیا تھا۔انھوں نے وزیر ماحول محمد المشنوق کو ان کے دفتر میں یرغمال بنا لیا تھا۔تاہم بعد میں سکیورٹی اہلکاروں نے ان مظاہرین کو وہاں سے نکال باہر کیا تھا۔

بیروت میں کوڑا کرکٹ کی تلفی کے لیے پلانٹ کو جولائی کے وسط میں بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد شہر میں ہر طرف کچرے کے ڈھیر لگ گئے تھے اور حکومت بروقت کوئی متبادل بندوبست کرنے میں ناکام رہی ہے۔ کچرے کو ٹھکانے لگانے کے لیے احتجاجی مظاہروں سے شروع ہونے والی اس تحریک سے ملک میں ایک سیاسی بحران پیدا ہوچکا ہے اور مظاہرین گذشتہ ہفتے سے حکومت کے استعفے ،نئے پارلیمانی انتخابات کرانے ،بلدیہ کو کچرا اٹھانے کی ذمے داری سونپنے اور مظاہرین کے خلاف تشدد کے ذمے داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں