شام میں روسی مداخلت، امریکا اور فرانس کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

#شام میں روسی فوج کی محاذ جنگ پر موجودگی اور #ماسکو کی جانب سے #بشار_الاسد کے دفاع کے لیے اسلحہ و فوجی سازوسامان فراہم کیے جانے کی اطلاعات کے بعد #امریکا اور #فرانس نے روسی مداخلت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق فرانسیسی وزیرخارجہ لوران فابیوس نے ایک مقامی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہمیں شام کے #اللاذقیہ شہر میں روسی فوج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔ اگر شام میں #روس اپنی مداخلت کا دائرہ بڑھا رہا ہے تو ہم سب کے لیے باعث تشویش ہے۔ روسی فوج کی شام میں موجودگی کسی نئے تنازع کا موجب نہیں بننی چاہیے۔"

ایک سوال کے جواب میں فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ وہ کل ہفتے کو برلن میں اپنے روسی ہم منصب سیر گئی لافروف کے سامنے بھی شام میں روسی افواج کی موجودگی کا معاملہ اٹھائیں گے۔ ہمیں ایک دوسرے کے عزائم کا علم ہونا چاہیے اور ہم یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔"

ایک دوسرے سوال کے جواب میں مسٹر فابیوس کا کہنا تھا کہ اگر روس کی جانب سے شام کو اسلحہ کی فراہمی کی بات کی جاتی ہے تو یہ اسلحہ روایتی ہی ہوسکتا ہے۔ اگر روس نے صدر بشار الاسد کے دفاع کے لیے اپنے فوجی دستے بھیجے ہیں توہمیں اس کی جان کاری کا حق ہے کہ وہ کس مقصد کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ اگر روس طرطوس شہر میں فوجی اڈے کےحصول کی بات کرتا ہے تو یہ سوچنے کی بات ہے کہ روس کو شام میں فوجی اڈے کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے؟

فرانسیسی وزیرخارجہ لوران فابیوس کا کہنا تھا کہ اگر روسی فوج کی شام میں آمد کا مقصد کوئی فوجی کارروائی یا آپریشن میں حصہ لینا ہے تو ہمیں بتایا جائے کہ روسی فوجیں کس کے خلاف آپریشن کریں گی۔ انہوں نے کہا کہ میرے خیال میں شام کے مسئلے کا صرف سیاسی حل ہی دیر پا ثابت ہوسکتا ہے۔ بشارالاسد اور ان کی حکومت اور اپوزیشن کی طرف سے کسی ایک سمجھوتے پر متفق ہونا چاہیے۔

قبل ازیں امریکی حکومت کی جانب سے بھی شام میں روسی فوج کی موجودگی اور ماسکو کی جانب سے دمشق سرکار کو جنگی سامان فراہم کیے جانے سے متعلق خبروں پر گہری تشویش کا اظہار کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں