.

مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی فوج کی جارحیت کی شدید مذمت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے سبکدوش ہونے والے صدر محمود عباس نے مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں قابض اسرائیلی فوج کی دراندازی اور جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اسرائیلی فوج اور پولیس نے اتوار کی صبح مسجد الاقصیٰ کے احاطے میں دھاوا بول دیا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق اسرائیلی پولیس نے مسجد میں داخل ہوکر نماز کے لیے بچھی چٹائیوں کو نقصان پہنچایا تھا جبکہ اسرائیلی پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے پتھر پھینکنے والے مظاہرین کو روکنے کے لیے مسجد کے دروازے بند کیے تھے۔

اسرائیلی پولیس نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے صحن کے باہر اور مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم حصے میں ان کی فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں ہوئی تھیں اور انھوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے اور آواز پیدا کرنے والے دستی بم پھینکے تھے۔فلسطینی انجمن ہلال احمر کے مطابق جھڑپوں میں بیس افراد زخمی ہوئے ہیں اورانھیں اسپتال لے جانا پڑا ہے۔

مسلمانوں کے قبلۂ اوّل کے حق تولیت کے حامل اردن نے بھی اسرائیل کی اسپیشل فورسز اور فوج کی مسجد اقصیٰ کے احاطے میں دخل اندازی اور کارروائی کی مذمت کی ہے۔

اردن کے وزیراطلاعات محمدمومنی نے ایک بیان میں حکومت کی جانب سے اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسرائیل پر اشتعال انگیزی کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ کے اس حساس ترین مقام کے ''اسٹیٹس کو'' کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے۔

اردن کے علاوہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات رکھنے والے مصر نے بھی مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فورسز کی چڑھائی کی مذمت کی ہے۔مصر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مسلمانوں کے مقدس مقام میں اشک آور گیس اور آواز بموں کا استعمال کسی بھی طرح قابل قبول نہیں ہے۔

واضح رہے کہ موجودہ جوں کی توں صورت حال (اسٹیٹس کو) کے تحت یہود کو مسجد اقصیٰ میں صرف جانے کی اجازت ہے اور انھیں وہاں کسی طرح کی عبادت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے کیونکہ اس طرح ان کے اور مسلمان عبادت گزاروں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔

مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں اور فلسطینی علاقوں پرقابض اسرائیلی فورسز کے درمیان آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔جولائی میں بھی اسرائیلی پولیس اہلکار مسجد اقصیٰ کے احاطے میں گھس گئے تھے اور ان کی وہاں مسلمانوں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔تب مسلمانوں نے یہود کو سالانہ یوم گریہ کے موقع پر مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر سخت احتجاج کیا تھا اور انھیں منتشر کرنے کےلیے اسرائیلی فورسز نے ریاستی طاقت کا استعمال کیا تھا۔