.

یہودی نئے سال کی آمد، مسجد اقصیٰ کے کمپائونڈ میں جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں موجود مسلم مقدس مقام مسجد اقصٰی کے کمپائونڈ کے پاس تعینات اسرائیلی پولیس اور فلسطینی شہریوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

یہ جھڑپیں یہودی نئے سال کے آغاز سے کچھ گھنٹے پہلے ہی شروع ہوئی ہیں۔ ان جھڑپوں کا ایک موجب اسرائیلی وزیر دفاع موشے یعلون کی جانب سے مسجد اقصٰی پر حملہ کرنے والے یہودی آبادکاروں کا مقابلہ کرنے والے دو مسلم گروپوں کے مسجد میں داخلے پر پابندی لگانا بھی ہے۔

فلسطینی عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ اسرائیلی پولیس فلسطینی مظاہرین کے خلاف کارروائی کرتی ہوئی مسجد میں داخل ہوگئی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے مسجد کے دروازے صرف اس لئے بند کئے ہیں تاکہ وہ پتھر اور آتشبازی کا سامان پھینکنے والے مظاہرین کو مسجد میں قید کرسکیں۔

پولیس کے مطابق مظاہرین ایک دن قبل ہی مسجد کے اندر مورچہ زن ہوگئے تھے تاکہ وہ یہودی نئے سال کی تقریبات کے لئے مسجد اقصٰی میں آنیوالے یہودیوں کے دوروں میں رکاوٹ ڈال سکیں۔

پولیس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا ہے "مسجد کے اندر موجود نقاب پوش مظاہرین نے پولیس پر پتھر اور آتشبازی کا سامان پھینکا۔ ہمیں مسجد کے داخلی راستے کے پاس دیسی ساختہ آتشبازی کو چلانے والے پائپ بھی ملے ہیں۔"

ایک مسلمان عینی شاہد نے بتایا ہے کہ پولیس مسجد میں زبردستی داخل ہوگئی اور اس نے مسجد میں سامان کو نقصان پہنچایا جس کے نتیجے میں مسجد کے جائے نماز جزوی طور پر جل گئے۔

اس کے بعد جھڑپوں کا سلسلہ مسجد کے باہر بھی جاری رہا جہاں پر اسرائیلی پولیس نے آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ مظاہرین پر پھینکے۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے پچھلے ہفتے کے دوران مرابطت اور مرابطون نامی گروپوں پر پابندی لگا دی اور کہا کہ یہ قدم ریاست کے تحفظ اور عوامی مفاد میں اٹھایا گیا ہے۔

غیر مسلموں کو مسجد کے احاطے میں داخل ہونے کی اجازت ہے مگر یہودیوں کو مسجد کے اندر عبادت کرنے یا اپنے قومی نشانات دکھانے پر پابندی ہے۔