شام: الحسکہ میں دو کار بم دھماکے،20 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے شمال مشرقی شہر الحسکہ میں دو کار بم دھماکوں میں بیس افراد ہلاک اور ستر سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔
شام کے سرکاری ٹیلی ویژن نے اطلاع دی ہے کہ سوموار کو الحسکہ شہر بم دھماکوں کے نتیجے میں دو عمارتیں زمین بوس ہوگئی ہیں اور امدادی ٹیمیں ملبے تلے افراد کو تلاش کررہی تھی۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے ان دونوں واقعات کی مختلف تفصیل بتائی ہے اور کہا ہےکہ یہ خودکش کار بم دھماکے تھے۔سانا کے مطابق الحسکہ کے علاقے خشمان میں بم دھماکے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور المحطة میں بارہ افراد مارے گئے ہیں۔ان دونوں بم دھماکوں میں کل ستر افراد زخمی ہوئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائےانسانی حقوق کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے بارود سے بھری دو کاروں کو دھماکوں سے اڑایا ہے۔تاہم اس نے فوری طور پر ان بم دھماکوں میں ہونے والے جانی نقصان کی تصدیق نہیں کی ہے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ خشمان میں کرد سکیورٹی فورسز کے ایک چیک پوائنٹ پر پہلا کار بم حملہ کیا گیا تھا اور المحطة میں حکومت نواز ایک ملیشیا کے ہیڈکوارٹرز کو کار بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ الحسکہ شہر اور اسی نام کے صوبے پر کرد ملیشیا اور صدر بشارالاسد کی وفادار فورسز کا مشترکہ کنٹرول ہے اور انھوں نے اپنے درمیان اس صوبے کے علاقے بانٹ رکھے ہیں۔اس شہر پر داعش کے جنگجو گاہے گاہے حملے کرتے رہتے ہیں۔ان کا صوبہ الحسکہ کے بعض علاقوں پر قبضہ ہے۔انھوں نے جون میں شہر پر دھاوا بولا تھا اور اس کے بعض حصوں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن ایک ماہ کے بعد اسدی فوج اور کرد جنگجوؤں نے شدید لڑائی کے بعد انھیں شہر سے پسپا کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں