درعا سے فوجی کمک شامی فوج کی مدد کے لیے الغوطہ روانہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

#شام کے صدر مقام #دمشق کے نواحی علاقے #الغوطہ میں حکومت مخالف باغیوں کے مسلسل حملوں اور کئی محاذوں پر پیش قدمی کے بعد صدر #بشار_الاسد کی فوج کو افرادی قوت کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑا ہے جسے پورا کرنے کے لیے #درعا سے شیعہ جنگجوئوں کی کھیپ اور فوجی سازو سامان طلب کیا گیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ اسد رجیم نے درعا شہر سے اپنے فوجیوں اور #حزب_اللہ کے اجرتی قاتلوں کی بھاری تعداد کو الغوطہ اور اس کے مضافات کے محاذوں کے لیے روانہ کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ درعا میں السیدہ زینب کے مقام سے اسد نواز ملیشیا کے پاس موجود 10 ٹینک، بیسیوں بکتر بند گاڑیاں، بھاری اسلحہ اور سیکڑوں جنگجوئوں کو الزبدانی کے لیے روانہ کردیا گیا ہے جب کہ 50 فوجی ٹرک معرونہ کءے مقام سے البعث کی طرف روانہ کردیے گئے ہیں۔

قبل ازیں الغوطہ میں جیش الاسلام نامی گروپ نے اسلحہ اور افرادی قوت کی قلت کے باعث نفیر عام کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے بھی اسلحہ اور افرادی قوت مہیا کرنے کی اپیل کی تھی۔

خیال رہے کہ الغوطہ کے مشرقی حصے پر اسد نواز ملیشیا جب کہ مغربی حصے پر باغیوں کا کنٹرول ہے۔ شامی فوج کے جنگی طیارے باغیوں کے زیرقبضہ علاقوں پر مسلسل بمباری کرتے رہتے ہیں۔ حالیہ چند ایام میں باغیوں کی طرف سے بھی اسدی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کے ٹھکانوں پر بھاری ہتھیاروں سے گولہ باری کی گئی تھی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اپوزیشن جنگجوئوں نے مشرقی الغوطہ کے تین کلو میٹر اندر تک دمشق۔ حمص شاہراہ پرقبضہ کرکے حرستا کے محاذ سے دمشق کی طرف شامی فوج کی سپلائی لائن منطقع کردی ہے۔ اپوزیشن فورسز آگے بڑھتے ہوئے الغوطہ کے پہاڑی علاقوں تک جا پہنچے ہیں جہاں قریب ہی اسدی فوج اور اس کی حامی ملیشیا کی توپیں نصب ہیں۔ تاہم شامی فوج ابھی تک التل، قاسیون اور الملیحہ جیسی اہم پوسٹوں پر بدستور قابض ہیں۔ انہیں بچانے کے لیے شامی فوج کے جنگی طیارے باغیوں پر مسلسل بمباری کررہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں

  • مطالعہ موڈ چلائیں
    100% Font Size