ایران شام کو فوجی اور سیاسی امداد دے رہا ہے: بشارالاسد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

شامی صدر بشارالاسد نے کہا ہے کہ ایران شام کو جنگی آلات مہیا کررہا ہے اور ان کی حکومت کو ملک میں سنہ 2011ء کے اوائل میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے ماہرانہ مشاورت مہیا کررہا ہے۔

انھوں نے بدھ کو روسی میڈیا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ''ایران شام اور شامی عوام کی حمایت کرتا ہے ۔وہ سیاسی ،اقتصادی اور عسکری لحاظ سے شامی ریاست کے ساتھ کھڑا ہے''۔

بشارالاسد نے کھلے بندوں کہا ہے کہ شام میں جاری تنازعے کے پیش نظر ایران کی جانب سے ان کی حکومت کی حمایت ناگزیر ہے۔البتہ ان کا کہنا تھا کہ ''جب ہم فوجی امداد کی بات کرتے ہیں تو اس کا وہ مطلب نہیں ہوتا جیسا کہ مغربی میڈیا کے بعض ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ ایران شام میں اپنی فوج یا مسلح افواج بھیج رہا ہے،یہ درست نہیں ہے''۔

واضح رہے کہ شام نے 1980ء کے عشرے کے دوران ایران کا اس کی عراق کے ساتھ جنگ میں ساتھ دیا تھا۔اب ایران اس مدد وحمایت کا بدلہ چکانے کے لیے اسد حکومت کی حمایت کررہا ہے۔ایرانی میڈیا میں آئے دن شام میں ایرانی اور افغان جنگجوؤں کی شامی حکومت کی حمایت میں باغیوں کے خلاف لڑائی میں ہلاکتوں کی خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان جنگجوؤں کو رضاکار قرار دیا جاتا ہے جو شام میں اہل تشیع کے مقدس مقامات کی حفاظت کررہے ہیں۔

بشارالاسدنے روسی میڈیا کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ مغرب یورپ میں مہاجرین کے سیلاب پر تو چلّا رہا ہے لیکن اس کی جانب سے شام میں ''دہشت گردوں'' کی حمایت دراصل بحران کی اصل جڑ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ''یہ مہاجرین دہشت گردی ،دہشت گردوں اور خونریزی کی وجہ سے شام سے جا رہے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ وہ دہشت گردی کے نتائج کی بنا پر ملک چھوڑ کر جارہے ہیں''۔بشارالاسد کا کہنا تھا کہ ''جب آپ کو دہشت گردی کا سامنا ہوگا اور آپ کو ڈھانچے کی تباہی کا بھی سامنا ہوگا تو پھر آپ کو بنیادی ضروریات دستیاب نہیں ہوں گی''۔

شامی حکومت ملک میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے بشارالاسد کی وفادار فوج کے خلاف لڑنے والے تمام باغی جنگجو گروپوں کو دہشت گرد قرار دیتی چلی آرہی ہے۔ان میں مغرب کے حمایت یافتہ اعتدال پسند باغی گروپ بھی شامل ہیں۔

بشارالاسد نے انٹرویو میں ترکی ،خلیجی ممالک اور امریکا کے ساتھ مشروط طور پر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے لیکن اس کے لیے یہ شرط عاید کی ہے کہ یہ ممالک ان کے بہ قول دہشت گرد گروپوں کی حمایت اور انھیں ڈھال مہیا کرنے سے دستبردار ہو جائیں اور اس کے بجائے ان کے ساتھ لڑائی پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔

شامی صدرکا کہنا تھا:''پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ کوئی ذاتی تعلق نہیں ہوتا ہے بلکہ یہ ریاستوں کے درمیان تعلق ہے۔جب آپ ریاستوں کے درمیان تعلق کی بات کرتے ہیں تو پھر آپ اعتماد کی بات نہیں کرتے بلکہ میکانزم کی بات کرتے ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''اگر دنیا میں کسی کے ساتھ بھی ملاقات یا مصافحے سے شامی عوام کو کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے تو میں یہ کرنے کو تیار ہوں۔خواہ میں اس کو پسند کروں یا نہ کروں۔اس لیے اس معاملے کا مجھ سے تعلق نہیں کہ میں اس کو قبول کرتا ہوں یا رد کرتا ہوں بلکہ اس کا تعلق تو آپ کے اقدام کی قدرو اہمیت سے ہے۔اس لیے ہم تیار ہیں۔جب کبھی شامی عوام کے مفاد کی بات ہوگی تو میں یہ کروں گا اور اس کو قبول کروں گا''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں