.

بیت المقدس میں جھڑپیں، اسرائیل نے سیکیورٹی بڑھا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی پولیس نے فلسطینی قیادت کی جانب سے یوم الغضب منانے کے اعلان کے بعد مقبوضہ #بیت_المقدس میں اضافی سینکڑوں پولیس اہلکار تعینات کردئیے ہیں۔ اس موقع پر #اقوام_متحدہ کی جانب سے امن اور برداشت کے فروغ کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

#مسجد_اقصیٰ میں پرتشدد جھڑُپوں اور فلسطینیوں کی جانب سے یہودی آبادکاروں کی گاڑیوں پر پتھرائو کے واقعات کے بعد شہر اور اس کے گرد ونواح میں 800 اضافی پولیس اہلکاروں کو تعینات کردیا گیا ہے۔

اسرائیلی پولیس کے ایک ترجمان مکی روزن فیلڈ کا کہنا تھا "اسرائیلی پولیس نے کسی بھی ممکنہ واقعہ کو روکنے اور پرتشدد حالات سے نمٹنے کے لئے بیت المقدس اور اس کے گرد ونواح میں سیکیورٹی کو سخت کردیا ہے۔"

فلسطینی مظاہرین کو دبانے کی کوشش میں #اسرائیل نے جمعہ کے روز 40 سال سے کم عمر مردوں کے مسجد اقصیٰ میں داخلے پر پابندی عائد کررکھی ہے۔ مگر ان پابندیوں کی وجہ سے بیت المقدس میں کشیدگی کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی امن کے لئے اپیل

اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے رواں ہفتے کے دوران مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس میں تشدد پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے برداشت اور امن کی اپیل کی ہے۔

سیکیورٹی کونسل کی جانب سے یہ بیان مسجد اقصیٰ میں تین دن جھڑپیں جاری رہنے کے بعد جاری کیا گیا۔