.

چائے بنانے والا عراقی فوج میں لیفٹیننٹ کرنل بن گیا!

عراقی فوج میں بوگس بھرتیوں کی بھرمار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

#عراق میں صدام حسین کی آمریت کے خاتمے کے لیے آئی امریکی افواج کو ما بعد صدام مقامی کٹھ پتلی عراقی حکومتوں نے خوب گمراہ کیا۔ امریکی فوج کو گمراہ کرنے کی ویسے تو بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ اس کی تازہ مثال میجر جنرل غازی عزیزہ کا وہ انکشاف ہے جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ عراق کی وزارت برائے نیشنل سیکیورٹی کی جانب سے 550 عراقی شہریوں کی ایک فہرست امریکیوں کو فراہم کی اور کہا گیا یہ تمام لوگ دہشت گرد ہیں۔ چونکہ اس فہرست پر مشترکہ آپریشن کے انچارج جنرل غازی عزیزہ کے دستخط ثبت نہیں تھے۔ اس لیے امریکیوں نے وہ فہرست کرنل عدنان قاسم کو واپس کردی۔ کرنل قاسم کی طرف سے وہ فہرست مجھ تک پہنچی تو میں اسے دیکھ کر دہنگ رہ گیا کیونکہ فہرست میں دیے گئے ناموں میں سے 95 فی صد کو میں ذاتی طور پر جانتا تھا۔ یہ سب عام شہری اور پر امن لوگ تھے۔ ان میں کوئی ایک بھی دہشت گرد نہیں تھا۔ یہ سب لوگ بغداد گورنری کے محلہ 146 کے رہائشی تھے۔ ان میں بعض تو میرے دوست بھی تھے اور فوج کے جنرل سیکیورٹی انٹیلی جنس میں خدمات انجام دے چکے تھے۔ میں نے وہ فہرست منسوخ کردی جس پر ان کے خلاف آپریشن کا فیصلہ واپس لے لیا گیا۔

جنرل غازی عزیزہ نے ان خیالات کا اظہار "العربیہ" کے پروگرام "سیاسی ڈائری" میں گفتگو کے دوران کیا۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ عراق کی حکومتیں فوج میں بوگھس بھرتیاں کرتی رہی ہیں۔ ان پڑھ لوگوں کو فوج میں اہم اور کلیدی عہدوں پر تعینات کیا جاتا رہا ہے۔ آج اگر عراقی فوج کی نااہلی کی دنیا بھر میں مثال دی جاتی ہے تو اس کی وجہ فوج میں پیشہ وارانہ اور تعلیم یافتہ لوگوں کے بجائےان پڑھ اور غیر پیشہ ور عناصر کا مسلط ہونا ہے۔

فوج کے ادارے میں کرپشن

میجر جنرل غازی عزیزہ کا کہنا ہے کہ فوج میں کرپشن کے پھیلتے ناسور نے عسکری شعبے کی کارکردگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اہلکاروں کی ترقیوں کے معاملے میں بھی لوٹ مار اور قانون کی شکنی کی بدترین مثالیں ملتی ہیں۔ العربیہ کے پروگرام "سیاسی ڈائری" میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم ایاد علاوی کی عبوری حکومت کے دور میں مسٹر فلح النقیب وزیر داخلہ تھے۔ وہ لیفیٹننٹ کرنل عدنان ثابت [وزیر موصوف کے ماموں] کے پاس آئے اور انہیں جنرل کے عہدے پر تعینات کردیا۔ میرے لیے وزیر داخلہ کی طرف سے اپنے کسی قریبی عزیز کی فوج میں لیفٹننٹ کرنل سے جنرل تک ترقی کا حیران کن واقعہ تھا۔ وزیر فلح النقیب نے اپنے ایک دوسرے رشتہ دار کی فرسٹ پائلٹ سے پانچ درجے آگے ترقی کر کے فوج میں بدترین کرپشن کی ایک نئی مثال قائم کی تھی۔

چائے بنانے والا لیفٹیننٹ کرنل

عراق کی سابقہ حکومتوں اور ان کی کرپشن کی بات کرتے ہوئے جنرل عزیزہ نے بتایا کہ ایک عام شخص جو پہلے چائے فروخت کیا کرتا تھا وزیر داخلہ کی نوازشات سے وہ بھی فوج میں لیفٹیننٹ کرنل بن گیا تھا۔

جنرل عزیزہ نے بتایا کہ سابق وزیر داخلہ باقر جبرالزبیدی نے ایک معمولی درجے کے شخص کو جو وزارت داخلہ میں چائے بناتا تھا اس وقت فوج میں ایک اہم عہدے پر تعینات کردیا جب مختلف عسکری گروپوں کو فوج میں شامل کرنے کی مہم جاری تھی۔ پہلے تو چائے فروخت کرنے والے 'صاحب' پولیس میں سارجنٹ بھرتی ہوئے۔ جب میں نے ایک دن اسی سے پوچھا کہ آپ سارجنٹ کیسے بھرتی ہوگئے تو اس نے کہا کہ اگر میں لکھنا پڑھنا جانتا ہوتا تو براہ راست کرنل بھرتی ہوتا۔ چند سال بعد پتا چلا کہ اس کی لیفیننٹ کرنل کے عہدے پر ترقی ہوچکی ہے۔

میجر جنرل غازی عزیزہ نے فوج میں بوگھس بھرتیوں کے حوالے ایک اور مثال بیان کی۔ کہنے لگے کہ ایک دفعہ ایک افسر کو میرے پاس بھیجا گیا اور کہا گیا میں اسے نقشوں کے بارے میں تفصیلات بتائوں۔ میں اس وقت اسے دیکھ کرحیران رہ گیا جب اس نے کہا کہ میں پڑھا لکھا نہیں ہوں۔ میں حیران تھا کہ ایک ان پڑھ شخص کو فوج میں نائب کپتان کیسے لگایا جاسکتا ہے۔ جب میں اسے نقشوں کے بارے میں بریفنگ دینے لگا تو اس نے ایک نقشے کے گرد لگے فریم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ فریم اس کے ہاتھ سے بنا ہے۔ میں نے کہا یہ تو امریکیوں نے لگایا ہے تو اس نے کہا کہ جب لکڑی کا کام ہوتا تو وہ مجھ ہی سے کراتے تھے۔ کئی بار ٹوٹ پھوٹ جانے والے فرنیچرکی مرمت کے لیے اسے بلایا جاتا رہا ہے۔ بعد ازاں اسے فوج میں بھرتی کردیا گیا۔