علاوی حیدر العبادی پر برس پڑے، حکومت چھوڑنے کا مطالبہ

حکومت ملک کو درپیش چیلنجز کے حل میں ناکام ہوچکی: علاوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

#عراق کے سرکردہ سیاسی رہ نما اور "العراقیہ الائنس" کے سربراہ #ایاد_علاوی نے موجودہ وزیراعظم #حیدر_العبادی کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہارکرتے ہوئے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور ساتھ ہی ان سے حکومت چھوڑنے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سابق وزیراعظم ایاد علاوی کی جانب سے موجودہ حکومت اور وزیراعظم العبادی پر یہ پہلی اور سخت تنقید ہے۔ ایاد علاوی نے عراقی پارلیمنٹ کے سب سے بڑے بلاک سے مطالبہ کیا کہ وہ ایگزیکٹو اتھارٹی کی تشکیل پر نظرثانی کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کے لیے کسی نئے اور موزوں رہ نما کا انتخاب کرے۔ پارلیمنٹ ایسی لوگوں کو حکومت سونپے جو آمرانہ فیصلے مسلط کرنے کے بجائے آئین اور دستور کے مطابق حکومت چلائے۔ ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کا اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہوسکتا۔

اپنے ایک بیان میں ایاد علاوی کا کہنا تھا کہ "میرا مطالبہ ہے کہ ملک میں ایک نئی حکومت تشکیل دی جائے۔ ایک ایسی حکومت جس میں نہ صرف تمام سیاسی دھڑوں کو اور عوامی جماعتوں کو نمائندگی دی جائے بلکہ سیاسی عمل سے باہر جماعتوں کو بھی حکومت میں ان کی حیثیت کے مطابق حصہ دیا جائے۔

ایاد علاوی کا کہنا تھا کہ ملک اس وقت سنگین بحرانوں سے گذر رہا ہے۔ امن وامان کی صورت حال ماضی کی نسبت کہیں زیادہ خطرناک ہے۔ بم دھماکے، اغوا اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں اضافہ ہوچکا ہے۔ ان تمام واقعات کے باعث عراقی قوم کو سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے دولت اسلامیہ عراق وشام #داعش کو شکست دینے میں حکومت کی ناکامی کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت داعش کو کچلنے میں بری طرح ناکام رہی ہے۔ اس کےعلاوہ حکومت کی دوسری ناکامی ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے بجٹ کی تخصیص نہ کرنا بھی ہے۔ ایاد علاوی نے تمام سیاسی جماعتوں پر افہام وتفہیم کے ذریعے آگے بڑھنے اور قومی مفاہمت کو فروغ دینے کی ضرورت پربھی زور دیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں