.

شام: متحارب فورسز میں تین محاذوں پر جنگ بندی پر اتفاق

اسدی فوج اور باغی گروپوں کے درمیان ادلب کے دو دیہات اور الزبدانی میں سیزفائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں حکومت نواز فورسز اور اسلام پسند باغیوں نے اتوار کی دوپہر سے تین محاذوں پر جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری(رصدگاہ) برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ متحارب فورسز کے درمیان شمال مغربی صوبے ادلب کے دو دیہات اور لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع قصبے الزبدانی میں جنگ بندی ہوگی۔ادلب کے ان دونوں دیہات پر ابھی تک صدر بشارالاسد کی وفادار فوج کا قبضہ ہے اور الزبدانی پر باغیوں کا کنٹرول ہے۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ دونوں فریقوں نے جنگ بندی کے دورانیے کے حوالے سے ابھی کچھ وضاحت نہیں کی ہے۔ البتہ وہ وسیع تر جنگ بندی کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

آبزرویٹری کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے قبل ازیں بتایا تھا کہ ''جنگجوؤں نے اتوار کی صبح جنگی کارروائیاں بند کردی تھیں لیکن سرکاری طور پر جنگ بندی کا آغاز دوپہر سے ہورہا ہے''۔

اسدی فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں نے جولائی میں الزبدانی پر دوبارہ قبضے کے لیے ایک بڑی کارروائی کا آغاز کیا تھا لیکن اس کے ردعمل میں شام میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو گروپ النصرۃ محاذ کی قیادت میں باغی گروپوں کے اتحاد جیش الفتح نے ادلب میں دو دیہات فوا اور کفریہ کا محاصرہ کر لیا تھا۔ان دونوں دیہات میں اہل تشیع آباد ہیں۔

الزبدانی کی ٹاؤن کونسل کے ایک رکن نے بھی چندے قبل اس بات کی تصدیق کی تھی کہ دوپہر سے جنگ بندی کا آغاز ہونے والا ہے۔ٹاؤن کونسل بھی جنگ بندی کے لیے اسد حکومت اور باغی گروپوں کے درمیان مذاکرات میں شریک رہی ہے۔

تاہم جنگ بندی کے باوجود باغی جنگجوؤں نے شمالی شہر حلب میں حکومت کے کنٹرول والے علاقے پر گولہ باری کی ہے جس کے نتیجے میں سات بچوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے اطلاع دی ہے کہ حلب کے علاقے المیدان پر گولہ باری کی گئی ہے۔

آبزرویٹری نے بتایا ہے کہ باغیوں نے نزدیک واقع علاقے سے المیدان کی جانب گولہ باری کی تھی اور اس کے ردعمل میں سرکاری فوج کے فضائی حملوں میں ایک بچہ ہلاک ہوگیا ہے۔واضح رہے کہ حلب 2012ء میں باغیوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی چھڑنے کے بعد سے دو حصوں میں منقسم ہوچکا ہے۔شہر کے مغربی حصے پر سرکاری فوج کا قبضہ ہے اور مشرقی حصے پر باغی گروپ قابض ہیں۔