.

مصر: پولیس جنرل شمالی سیناء میں حملے میں ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے شورش زدہ علاقے شمالی سیناء میں داعش کے جنگجوؤں نے فائرنگ کرکے پولیس کے ایک جنرل کو ہلاک کردیا ہے۔

پولیس جنرل احمد عبدالستار کو صوبہ شمالی سیناء کے دارالحکومت العریش میں ہفتے کی رات نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے ایک شاہراہ پر فائرنگ کا نشانہ بنایا ہے۔وہ اس وقت گاڑیوں کا معائنہ کررہے تھے۔العریش میں گذشتہ تین روز میں پولیس کے یہ دوسرے اعلیٰ افسر کی ہلاکت ہے۔

گذشتہ بدھ کی شب حملہ آوروں نے پولیس جنرل خالد کمال عثمان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔حملہ آور ایک گاڑی میں سوار تھے اور وہ فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے۔داعش سے وابستہ گروپ صوبہ سیناء نے اس حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔

جزیرہ نما سیناء میں جنگجوؤں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن فوج اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔مصری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔

مصری فوج اور پولیس نے اسی ماہ کے آغاز میں شمالی سیناء کے شہروں رفح ،شیخ زوید اور العریش میں دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لیے معرکہ حق الشہید (آپریشن شہید کا حق) کے نام سے کارروائی شروع کی تھی۔فوج کے ایک بیان کے مطابق اس کارروائی میں اب تک دو سو سے زیادہ شرپسند ہلاک کردیے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع سرحدی صوبے شمالی سیناء میں مختلف جنگجو گروپ سکیورٹی فورسز پر حملے کر رہے ہیں۔ان میں سب سے نمایاں داعش سے وابستہ جنگجو گروپ صوبہ سیناء ہے۔

اس گروپ کا مؤقف ہے کہ وہ مرسی نواز مظاہرین کے خلاف فوج اور پولیس کے کریک ڈاؤن اور اب ججوں کے سخت فیصلوں کے ردعمل میں یہ حملے کررہاہے۔مصری فوج کا کہنا ہے کہ اس نے سیناء میں کارروائیوں کے دوران ایک ہزار سے زیادہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا ہے لیکن ابھی تک وہ شورش پسندی پر قابو پانے میں کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔