اسرائیلی پولیس کو فلسطینیوں پر گولی چلانے کی اجازت

'فلسطینیوں کے قتل عام کا نیا لائسنس جاری کردیا گیا'

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اسرائیلی حکومت نے فلسطینی مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال کی اجازت دیتے ہوئے پولیس اور دیگر سیکیورٹی اداروں کو پتھراؤ کرنے والے فلسطینیوں پر براہ راست گولی چلانے کی اجازت دے دی ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں نے صہیونی حکومت کے اس اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے پولیس کو نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کا نیا لائسنس جاری رکھنے کے مترادف قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق گذشتہ روز اسرائیلی وزیراعظم بنجمن #نیتن_یاھو کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی سیکیورٹی اجلاس میں وزیراعظم کے قانونی مشیر کی سفارش پر سنگ باری کے مرتکب فلسطینیوں پر براہ راست فائرنگ کی منظوری دی گئی۔

اجلاس میں فلسطین کے شورش زدہ علاقوں بالخصوص #بیت_المقدس، حرم قدسی اور #غرب_اردن میں پرتشدد مظاہرے کرنے والے فلسطینیوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی اجازت دی گئی۔ اجلاس میں اس بات کی اجازت دی گئی کہ پولیس اور فوج پتھرائو کرکے یہودیوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے والے فلسطینی نوجوانوں پر گولی چلا سکتی ہے۔

اسرائیلی حکومت کی طرف سے فلسطینی شہریوں کے احتجاجی مظاہروں کے دوران یہودی فوجیوں پر پتھر پھینکنے کو "جان لیوا" اقدام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ آج تک سنگ باری کے نتیجے میں لوگ زخمی تو ہوئے ہیں مگر کسی شخص کی ہلاکت کی تصدیق نہیں ہوسکی جب کہ گولی چلانا سنگ باری سے کہیں زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس کے نتیجے میں کسی بھی شخص کی جان جاسکتی ہے۔

اجلاس کے بعد ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ "ہم نے پولیس کے لیے ہدایات تبدیل کردی ہیں۔ سنگ باری کرنے اور پٹرول بم پھینکنے والے فلسطینیوں کو پولیس کی گولیوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ اب ہم نے پولیس کو ان پر گولی چلانے کی کھلی اجازت دے دی ہے۔"

دوسری جانب #اسرائیل کی خاتون وزیر قانون آئیلیٹ شاکیڈ نے پارلیمنٹ کے ذریعے سنگ باری کرنے والے نوجوانوں کے اہل خانہ کو بھاری جرمانوں کے لیے قانون سازی بھی شروع کر دی ہے۔

درایں اثناء اسرائیل میں انسانی حقوق کی صورت حال کو مانیٹر کرنے والے اسرائیلی ادارے "بتسلیم" کی جانب سے جاری ایک بیان میں پولیس کو فلسطینیوں پر گولی چلانے کی اجازت دینے کی شدید مذمت کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ رواں سال اسرائیلی فوج کے تشدد اور فائرنگ کے نتیجے میں غرب اردن میں 15 فلسطینیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے چار کو احتجاجی مظاہروں کے دوران "روگر" نامی بندوق سے گولیاں مار کر شہید کیا گیا۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ پولیس کو فلسطینی مظاہرین پر گولیاں چلانے کی اجازت دینے کے سنگین نتائج سامنےآسکے ہیں۔ #فلسطین میں اسرائیلی اقدامات کے خلاف پہلے ہی غم وغصے کی فضاء پائی جارہی ہے۔ اگر اسرائیلی پولیس کی جانب سے مظاہرین پر گولیاں برسائی گئیں توغرب اردن میں عوام کا غم وغصہ آتش فشاں بن کر پھٹ سکتا ہے۔

اسرائیل نے فلسطین کی موجودہ کشیدگی صورت حال کی ذمہ داری #فلسطینی_اتھارٹی، اسلامی تحریک مزاحمت #حماس اور اسرائیل میں سرگرم اسلامی تحریک کے ساتھ ساتھ #ترکی پر بھی عاید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے خلاف پرتشدد مظاہروں کی ترغیب فلسطینی اتھارٹی اور غزہ کی پٹی کی حکمراں حماس کی جانب سے دی جاتی ہے اور وہی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار بھی ہیں۔

نیتن یاھو نے اپنے بیان میں کہا کہ جبل ہیکل [مسجد اقصیٰ] کے موجودہ اسٹیٹس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ کا انتظام وانصرم اردنی محکمہ اوقاف ومذہبی امور کے پاس ہے۔ نیز یہودیوں کو مسجد کے احاطے میں داخل ہونے کی تو اجازت ہے مگر انہیں وہاں پر عبادت کی اجازت نہیں دی گئی۔ مگر یہودی انتہا پسندوں کی ٹولیاں روزانہ #مسجد_اقصیٰ میں داخل ہوکر تلمودی تعلیمات کے مطابق مذہبی رسومات ادا کرتی ہیں۔ نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے طے شدہ اسٹیٹس کو تبدیل نہیں کر رہے ہیں۔

جہاں تک "روگر" نامی بندوق کے استعمال کا معاملہ ہے تو یہ بھی انسانی حقوق کی تنظیموں کی شدید تنقید کی زد میں ہے۔ اسرائیل نے پہلی بار اس بندوق کا استعمال "تحریک انتفاضہ" کے دوران فلسطینی مظاہرین کو کچلنے کے لیے کیا تھا۔ ہفتہ رفتہ اس بندوق کا دوبارہ استعمال شروع کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں چار فلسطینی شدید زخمی ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں