حلب میں شامی فوج کا میزائل حملہ، 18 افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

شام کے شمالی شہر حلب میں صدر بشارالاسد کی وفادار فوج نے ایک رہائشی علاقے پر تباہ کن بمباری کی ہے جس کے نتیجے میں اٹھارہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔

برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے سوموار کو بتایا ہے کہ ''سرکاری فوج نے حلب میں باغی جنگجوؤں کے زیر قبضہ علاقے الشعار پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے متعدد میزائل داغے ہیں''۔

میزائلوں کے اس حملے میں متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی ہیں اور بیسیوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔واضح رہے کہ حلب 2012ء میں باغیوں اور شامی فوج کے درمیان لڑائی چھڑنے کے بعد سے دو حصوں میں منقسم ہے۔ شہر کے مغربی حصے پر سرکاری فوج کا قبضہ ہے اور مشرقی حصے پر باغی گروپ قابض ہیں۔

حلب مارچ 2011ء میں صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کے آغاز سے قبل شام کا بڑا تجارتی اور کاروباری مرکز تھا لیکن اب وہ اسدی فوج کی وحشیانہ بمباری اور اس کے ردعمل میں باغی گروپوں کی گولہ باری کے نتیجے میں ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے۔حلب آبادی کے اعتبار سے ملک کا سب سے بڑا شہر تھا مگر اب مقامی لوگوں کی بڑی تعداد اپنا گھربار چھوڑ کر پڑوسی ملک ترکی یا دوسرے ممالک کی جانب جاچکی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں