امریکا نے عراقی وزیراعظم کے قتل کی سازش ناکام بنا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عراق کے دارالحکومت بغداد میں امریکی سفارت خانے نے حال ہی میں وزیراعظم حیدرالعبادی کے قتل کی دو سازشیں ناکام بنادی ہیں۔

اس بات کا انکشاف عراق کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے لندن سے شائع ہونے والے اخبار الشرق الاوسط کے ساتھ انٹرو میں کیا ہے۔اس عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''حیدرالعبادی کو قتل کرنے کی پہلی سازش ابتدائی مرحلے ہی میں تھی اوراس کو ناکام بنا دیا گیا تھا''۔

''عراقی وزیراعظم کے قتل کی دوسری سازش حتمی مراحل میں تھی اور اس کو بغداد کے انتہائی سکیورٹی والے علاقے گرین زون میں عملی جامہ پہنایا جانا تھا۔اس سازش میں ملوّث فوجی افسروں کو گرفتار کر لیا گیا ہے''۔

اس افسر کے بہ قول حیدرالعبادی کی ملک میں وسیع تر اصلاحات کے ردعمل میں ان کے قتل کی یہ سازشیں تیار کی گئی تھیں۔اس رپورٹ کے منظرعام پر آنے سے قبل ہی عراقی وزیراعظم نے کہا تھا کہ وہ اپنے خلاف ایک بغاوت کی توقع کرتے ہیں اور ان کی جان بھی لی جاسکتی ہے۔

گذشتہ ماہ وزیراعظم نے اصلاحات کے تحت نائب صدر اور نائب وزیراعظم کے عہدے ختم کردیے تھے۔اس اقدام کے نتیجے میں سابق وزیراعظم نوری المالکی کو نائب صدر کے عہدے سے ہاتھ دھونا پڑے تھے۔

اس عہدے دار کے بہ قول وزیراعظم نے حال ہی میں جنوبی شہر بصرہ میں حکومت کے ایک قافلے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔عراقی حکومت کا یہ قافلہ ایرانی پاسداران انقلاب کے ایلیٹ القدس یونٹ کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کے استقبال کے انتظار میں کھڑا تھا۔

ایک طرف تو جنرل قاسم سلیمانی کا اس انداز میں استقبال کیا جارہا تھا لیکن خود وزیراعظم ان کے عراق کے دورے سے لاعلم تھے۔انھوں نے اس بات پر بھی حیرت اور تشویش کا اظہار کیا تھا کہ ایرانی جنرل کا دورہ غیر سرکاری تھا۔

آن لائن منظرعام پر آنے والی تصاویر میں جنرل قاسم سلیمانی داعش کے خلاف جنگ آزما شیعہ ملیشیا حشدالشعبی کے جنگجوؤں کے درمیان کھڑے تھے۔داعش نے گذشتہ سال جون سے عراق کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں پر قبضہ کررکھا ہے اور اس وقت سے عراقی فوج اور اس کی اتحادی شیعہ ملیشیائیں ان کا قبضہ ختم کرانے کے لیے جنگ لڑرہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں