نئی فلسطینی انتفاضہ آغاز ہونے کا خدشہ ہے: محمود عباس

اسرائیلی وزیراعظم مقبوضہ مشرقی بیت المقدس میں کشیدگی ختم کرائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فلسطینی صدر محمود عباس نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقبوضہ بیت المقدس میں واقع مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز اور مسلمانوں کے درمیان جھڑپیں جاری رہتی ہیں تو اس سے ایک نئی انتفاضہ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔

انھوں نے فرانسیسی صدر فرانسو اولاند سے پیرس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''جو کچھ ہو رہا ہے، یہ بہت ہی خطرناک ہے''۔ انھوں نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے مطالبہ کیا ہے کہ ''وہ مسجد الاقصیٰ میں بدامنی کو ختم کرائیں''۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ ہم نئی انتفاضہ نہیں چاہتے ہیں۔

اس موقع پر فرانسیسی صدر نے امن وآشتی اور اصولوں کے احترام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انھوں نے فلسطینی صدر کے ساتھ نیوز کانفرنس میں کہا کہ میں نے مسجد الاقصیٰ کے احاطے سے متعلق ''اسٹیٹس کو'' کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے۔

مسجد الاقصیٰ میں گذشتہ ہفتے یہود کے نئے سال کے آغاز کے بعد سے کشیدگی جاری ہے اور وہاں اسرائیلی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان وقفے وقفے سے جھڑپیں ہو رہی ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ مسلمانوں کی عیدالاضحیٰ اور یہود کے یوم کپور کے موقع پر کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یوم کپور بدھ کو ہے اورعید الاضحی کا جمعرات سے آغاز ہورہا ہے۔

محمود عباس فرانس کے دورے کے بعد نیویارک روانہ ہونے والے تھے جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کریں گے اور اقوام متحدہ کی عمارت پر فلسطینی پرچم لہرانے کی تقریب میں شرکت کریں گے۔

پرچم لہرانے کے دن ہی اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بین کی مون مشرق وسطیٰ سے متعلق گروپ چار کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔اس اجلاس میں مصر ،اردن اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ اور عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی بھی شرکت کریں گے اور وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن مذاکرات کی بحالی اور اس دیرینہ تنازعے کے حل کے سلسلے میں تبادلہ خیال کریں گے۔

قبل ازیں منگل کو علی الصباح اسرائیلی فوج نے غربِ اردن کے شہر الخلیل کے نواح میں ایک چھاپہ مار کارروائی کے دوران ایک اکیس سالہ فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شہید کردیا ہے۔

فلسطینی سکیورٹی ذرائع نے شہید فلسطینی کا نام ضیاء الطلحمہ بتایا ہے۔اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ فلسطینی نوجوان بم کے دھماکے میں مارا گیا ہے اور وہ اس کو اسرائیلی فورسز کی گشتی پارٹی کو نشانہ بنانے کے لیے نصب کررہا تھا لیکن اس ترجمان نے یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا اسرائیلی فوج نے اس پر گولی چلائی تھی یا نہیں۔

اس خاتون نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج کی گشتی پارٹی الخلیل کے نواح میں سڑک پر رکھے پتھروں کو ہٹا رہی تھی۔اس دوران فوجیوں نے دھماکے کی ایک آواز سنی اور علاقے میں تلاشی کی کارروائی کے دوران انھیں ایک فلسطینی کی لاش ملی تھی۔

آج صبح الخلیل کے نزدیک واقع سکیورٹی چیک پوائنٹ پر تشدد کے ایک اور واقعے میں اسرائیلی فوجیوں نے ایک فلسطینی خاتون کو گولی مار کر زخمی کر دیا ہے۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس خاتون نے ایک فوجی کو چاقو گھونپنے کی کوشش کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں