.

مصری فوج کا سیناء میں داعش مخالف مہم ختم کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصری فوج نے شورش زدہ علاقے شمالی سیناء میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف معرکہ حق الشہید (آپریشن شہید کا حق) کے نام سے جاری بڑی مہم ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔فوج نے سولہ روز اس معرکے کے دوران بیسیوں جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

فوج کی جانب سے بدھ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جزیرہ نما سیناء میں جاری اس مہم کے مقاصد حاصل کر لیے گئے ہیں اور خصوصی دستوں ،آرمرڈ ڈویژن اور فضائیہ کی مشترکہ کارروائیوں میں جنگجوؤں کے ٹھکانوں اور آلات کو تباہ کردیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق آپریشن کے دوسرے مرحلے میں فوج اور پولیس شمالی سیناء کے شہروں العریش ،شیخ زوید اور رفح پر مکمل کنٹرول حاصل کرلے گی۔اس سے پہلے بھی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیانات میں اس مہم کے دوران بیسیوں جنگجوؤں کو ہلاک اور دسیوں کو گرفتار کرنے کے لیے اعلانات کیے گئے تھے۔

واضح رہے کہ داعش سےوابستہ گروپ صوبہ سیناء کے جنگجوؤں نے یکم جولائی کو شیخ زوید میں سکیورٹی تنصیبات پر ایک بھرپور حملہ کیا تھا اوراس کے بعض حصوں پر قبضہ کر لیا تھا۔ان کے حملے میں سترہ فوجی اور چار شہری ہلاک ہوگئے تھے۔بعد میں مصری فضائیہ کے ایف 16 لڑاکا طیاروں کی تباہ کن بمباری کے بعد داعش کے جنگجو پسپا ہونے پر مجبور ہوگئے تھے۔ان کے اس حملے کے ردعمل میں معرکہ حق الشہید کا آغاز کیا گیا تھا۔

جزیرہ نما سیناء میں جنگجوؤں نے مصر کے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر محمد مرسی کی جولائی 2013ء میں برطرفی کے بعد سے سکیورٹی فورسز کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے اور وہ آئے دن فوج اور پولیس اہلکاروں پر حملے کرتے رہتے ہیں۔مصری حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں اب تک سیکڑوں سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوچکے ہیں۔