.

صنعا: داعش نے مسجد میں بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی

حوثیوں کے زیرانتظام مسجد میں نمازِعید کے دوران دھماکے میں 25 افراد کی ہلاکت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر جنگجو گروپ دولتِ اسلامیہ (داعش) کی یمنی شاخ نے دارالحکومت صنعا میں ایک مسجد میں خودکش بم حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔عیدالاضحیٰ کی نماز کی ادائی کے دوران اس بم دھماکے میں پچیس افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔

داعش نے سوشل میڈیا پر جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ صنعا میں واقع جامع مسجد البلیلی میں جمعرات کی صبح نمازعید کے دوران بم حملے میں دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حوثی شیعہ باغیوں کے زیر انتظام مسجد میں دو بمباروں نے خود کو دھماکوں سے اڑایا ہے۔داعش نے ٹویٹر پر جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ اس کے حملہ آور نے شیعہ باغیوں کو حملے میں ہدف بنایا ہے۔تاہم امریکی خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے سکیورٹی حکام کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ ایک خودکش بمبار نے دھماکا کیا ہے،دو بمباروں اس حملے میں شریک نہیں تھے۔

ایک سکیورٹی عہدے دارنے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پربتایاہے کہ خودکش بمبار نے اپنے جوتے میں دھماکا خیز مواد چھپا رکھا تھا۔اس کے پھٹنے سے پہلا دھماکا ہوا اور جونہی نمازی مسجد کے دروازے کی جانب لپکے تو اس حملہ آور نے ان کے درمیان خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

بم دھماکے کے نتیجے میں مسجد کے بیرونی حصے کو نقصان پہنچا ہے اور ہرطرف مرنے والوں اور زخمیوں کا خون بکھر گیا۔واضح رہے کہ داعش کے جنگجو قبل ازیں صنعا میں حوثی باغیوں پر خودکش بم حملوں کی ذمے داری قبول کرچکے ہیں۔

یمن کے وسطی اور شمالی شہروں اور علاقوں میں اس وقت حوثی باغیوں اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی وفادار فورسز کے درمیان لڑائی جاری ہے جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے لڑاکا طیارے بھی حوثی باغیوں کو اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بنا رہے ہیں۔حوثیوں کی جزیرہ نما عرب میں القاعدہ اور داعش کے جنگجوؤں کے ساتھ بھی جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں۔