داعش کا مشتبہ سعودی جنگجو ہلاک، کزن کا قاتل گرفتار

مجھے بیٹے کے ہاتھوں کزن کے قتل کا یقین نہیں آ رہا: والد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی سکیورٹی فورسز کا عراق اور شام میں برسرپیکار انتہا پسند جنگجو گروپ داعش سے وابستہ دو مشتبہ بھائیوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس کے دوران ان میں سے ایک بھائی ہلاک ہو گیا ہے اور ایک کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

سعودی سکیورٹی فورسز نے ان دونوں مشتبہ بھائیوں کے خلاف یہ کارروائی اسی ہفتے آن لائن منظرعام پر آنے والی ایک ویڈیو کے بعد کی ہے۔ اس ویڈیو میں داعش سے وابستہ ان دونوں بھائیوں میں سے ایک اپنے سگے چچا زاد بھائی کو گولیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ مقتول سعودی سکیورٹی فورسز کا اہلکار تھا۔

سعودی وزارت داخلہ نے ہفتے کے روز ایک بیان میں بتایا ہے کہ صحرائی صوبے حائل میں سکیورٹی فورسز کا ان دونوں بھائیوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ ہوا ہے جس کے دوران چھوٹا بھائی اٹھارہ سالہ عبدالعزیزالعنزی ہلاک ہو گیا ہے اور اکیس سالہ سعد العنزی کو زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ان دونوں بھائیوں نے جمعرات کو عیدالاضحیٰ کے پہلے روز اپنے کزن مدوس فایزعياش العنزی کو سر میں گولیاں مار کر قتل کردیا تھا۔ان پر اسی روز ایک پولیس اسٹیشن کے باہر فائرنگ کرنے کا بھی شُبہ ہے۔ اس الگ واقعے میں ایک فوجی اور دو شہری مارے گئے تھے۔

سعودی رائے عامہ مملکت میں رونما ہونے والے اس عدیم النظیر جرم کے باعث ان دنوں دہشت کا شکار ہے۔ بہیمانہ جرم کا دستاویزی ثبوت سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ویڈیو کی شکل میں لاکھوں افراد دیکھ چکے ہیں۔

خبر کے ساتھ دی جانے والی تصویر اس سعودی شہر کی ہے جس نے داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی کے ہاتھ پر بیعت کے بعد ایک سعودی شہری کو اغوا کیا۔ جس کے بارے میں متذکرہ شخص کا دعوی ہے کہ البغدادی نے یرغمالی سعودی کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے کیونکہ اغوا کیا گیا شخص فوج سے منسلک ہے۔ اس کے بعد وہ وحشت ناک کارروائی پر عمل کرتے ہوئے اپنے آتشیں اسلحے سے یرغمالی کے سر میں گولیاں اتار دیتا ہے۔

اس ویڈیو کے بارے میں مختلف کہانیاں گردش میں ہیں۔ غیر سرکاری ذرائع کے حوالے سے متفق علیہ کہانی کے مطابق داعش سے منسلک سعودی شہری نے اپنے قریبی عزیز کو صحراء کی سیر کے لئے آمادہ کیا۔ بدقسمت شہری اس پیشکش کو شغل سمجھتا رہا تاہم اس کا انجام موت کی صورت میں نکلا۔ اس واقعے نے گذشتہ رات سے سوشل میڈیا پر رائے عامہ کو دہشت زدہ کر رکھا ہے۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ ویڈیو کو ڈرامے کے طور پر فلمایا گیا ہے تاہم سرکاری ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ سیکیورٹی اداروں نے داعش کے رکن کو حراست میں لے کر اس سے منسوب الزام کی تفتیش شروع کر دی ہے۔

سعودی فوج سے ریٹائرڈ ہونے والے راضی عیاش العنزی نے وہ ویڈیو کلپ پہلی مرتبہ دیکھا جس میں اس کا بیٹا اس کے یتیم بھتیجے کو گولی مارتا دیکھتا جا سکتا ہے۔ قاتل اور مقتول دونوں ایک ہی گھر میں پلے بڑھے۔ قتل کی اس بہیمانہ واردات کو راضی عیاش العنزی کا دوسرا بیٹا کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرتا رہا۔

صدمے سے دوچار عیاش العنزی کا کہنا تھا کہ اسے اپنے بیٹے میں کبھی کوئی غیر معمولی تبدیلی نظر نہیں آئی سوائے اس کے وہ زیادہ وقت کمپیوٹر پر گزارتا۔ وہ کوئی کام کاج بھی نہیں کرتا تھا اور نہ ہی شادی کے لئے تیار تھا حالانکہ میں نے شادی اور اس کی بیوی بچوں کے نان نفقے کی ذمہ داری اٹھانے کی پیشکش بھی کی۔

آل عیاش خاندان نے ایک بیان میں قتل کی اس واردات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تمام معاملات سعودی حکومت اور خادم الحرمین الشریفین کے سپرد کرتے ہیں، انہیں اس ضمن میں کئے جانے والے ہر فیصلے سے مکمل اتفاق ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں