"ایرانی سفیر سعودی عرب اصلی نام سے داخل نہیں ہوئے"

منیٰ حادثے کے بعد سفیر کے لاپتا اور زخمی ہونے سے متعلق متضاد خبریں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سعودی ذرائع نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' کو بتایا کہ لبنان میں ایران کے سابق سفیر 'غضنفر آبادی' کا نام اس سال حج کے لئے مملکت آنے والے افراد کی فہرست میں نہیں ملا۔

اگر ان کی حاجیوں کے ہمراہ موجودگی کی تصدیق ہو گئی تو امکانی طور پر سفیر کسی نامعلوم طریقے سے مملکت آئے ہوں اسی وجہ سے ان کا نام حجاج کی آمد کی لسٹ میں شامل نہیں ہے کیونکہ اگر ایسا اسی صورت ممکن تھا جب ان کے پاسپورٹ پر مملکت داخلے کی مہر لگی ہوتی۔

لبنان میں ایران کے سابق سفیر غضنفر رکن آبادی کی منیٰ میں ہونے والی بھگڈر میں لاپتا ہونے سے متعلق متضاد خبریں آ رہی ہیں، ایک اطلاع کے مطابق وہ بھگڈر میں زخمی ہوئے جبکہ دوسری خبر کے مطابق وہ منیٰ واقعہ کے بعد سے لاپتا ہیں۔

یاد رہے کہ عیدالاضحی کے پہلے دن منیٰ کے مقام پر بھگڈر مچنے سے 750 سے زائد حاجی شہید ہوئے۔

تہران میں سرکاری حکام اور سفیر کے اہل خانہ اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ غضنفر آبادی ایرانی حاجیوں کے دستے میں شامل تھے۔

لاپتا سفیر کے بھائی مرتضی آبادی نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ جمعرات کی شام سے ہم اپنے بھائی سے رابطے کی کوشش میں ہیں، لیکن ہمارا ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ حادثے کے بعد سے ہم ان کے ٹیلی فون نمبر پر مسلسل رابطہ کر رہے ہیں، لیکن کوئی جواب نہیں ملتا۔

اس کے برعکس ایران کے ایک اہم اسٹرٹیجسٹ امیر موسوی نے ایک خبر رساں کو بتایا کہ غضنفر رکن آبادی کے منی بھگڈر میں زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غضنفر آبادی کو معمولی زخم آئے۔

مسٹر موسوی نے بتایا کہ غضنفر آبادی کی تہران میں موجود اہلیہ اور مکہ مکرمہ میں موجود بھائی نے تصدیق کی ہے کہ سفیر محترم خریت سے ہیں اور ان کی صحت کے بارے میں پریشانی کی بات نہیں۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اپنے سابق سفارتکار کے بارے میں سرکاری سطح پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

غضنفر رکن آبادی 2010-2014 کی مدت میں چار برس تک تہران کے سفیر رہے۔ نیز انہوں نے لبنان میں قومی اتفاق رائے کی حکومت بنوانے کے لئے ملک کی سرگرم سیاسی جماعتوں کے ساتھ اہم کردار ادا کیا۔ وہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے ساتھ اپنے باوثوق تعلقات کی وجہ سے مشہور تھے۔ وہ 2013ء کو بیروت میں ایرانی سفارتخانے میں دوہرے خودکش حملے میں بال بال بچے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں