.

غربِ اردن: فلسطینیوں اور اسرائیلی فورسز کے درمیان جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ بیت المقدس میں مسجد الاقصیٰ میں قابض اسرائیلی فورسز کی دراندازی کے خلاف فلسطینیوں کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے اور غرب اردن کے مختلف شہوں اور قصبوں میں فلسطینی مظاہرین اور اسرائیلی فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔

مسجدالاقصیٰ کے احاطے میں منگل کے روز کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔قریباً چھے سو فلسطینی مسجد میں عبادت کے لیے آئے تھے جبکہ قریباً ایک سو یہودی مسجد میں داخل ہوئے تھے۔اس مقدس مقام کے موجودہ ''اسٹیٹس کو'' کے مطابق یہود کو وہاں زائر کی حیثیت سے داخل ہونے کی اجازت ہے مگر عبادت کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

اسرائیل نے مقبوضہ بیت المقدس میں تشدد کے حالیہ واقعات کے بعد پچاس سال سے کم عمر فلسطینیوں کے مسجد الاقصیٰ میں داخلے پر پابندی عاید کررکھی ہے۔صہیونی حکومت نے یہ اقدام مسلمانوں اور یہود کے درمیان کشیدگی کو ختم کرانے کے لیے کیا تھا۔

فلسطینی یہود کے مسجد الاقصیٰ میں داخلے کو اشتعال انگیزی سے تعبیر کررہے ہیں اور یہ بھی افواہیں گردش کررہی ہیں کہ وہ اس مقدس مقام پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے کشیدگی کو ہوا ملی ہے اور ماحول کشیدہ ہوچکا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کا موجودہ انتظامات کو تبدیل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے مگر یہودیوں کا ایک انتہا پسند گروپ اپنے ہم مذہبوں کو مسجد الاقصیٰ میں آنے پر اُکسا رہا ہے اور ان کی اس تحریک کے پیش نظر ہی اسرائیل مسلمانوں کی ان کے قبلہ اوّل میں آمد پر پابندیاں عاید کردیتا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت فتح نے غرب اردن کے شہروں میں اسرائیلی فورسز کی مسجد الاقصیٰ میں دراندازیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔رام اللہ میں فتح سے تعلق رکھنے والے قریباً تین سو مظاہرین نے نزدیک واقع ایک یہودی بستی بیت ایل کی جانب مارچ کیا ہے۔اسرائیلی فورسز نے انھیں منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے ،خوف ناک آواز پیدا کرنے والے دستی بم پھینکے تھے اور مظاہرین کی ٹانگوں پر ہلکی گولیاں چلائی تھیں جس سے چھے فلسطینی زخمی ہوگئے تھے۔

واضح رہے کہ اردن مقبوضہ بیت المقدس میں مسلمانوں کے مقدس مقامات کی دیکھ بھال کا ذمے دار ہے اور وہ مسجد الاقصیٰ میں کوئی خلاف ورزی ہونے کی صورت میں اسرائیل سے شکایت کرتا ہے۔انتہا پسند یہودیوں کی جانب سے حالیہ دنوں میں مسجد الاقصیٰ میں داخلے کی متعدد مرتبہ کوششیں کی گئی ہیں اور ان کی مزاحمت کرنے والے فلسطینی نوجوانوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوچکی ہیں۔

یہودی مسجد الاقصیٰ کے لیے ٹیمپل ماؤنٹ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔غیر مسلموں کے صرف اجازت ناموں کے ذریعے ہی الاقصیٰ کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت ہے لیکن یہودیوں کو مسجد کے اندر عبادت کی اجازت نہیں ہے کیونکہ اس سے گڑبڑ کا اندیشہ رہتا ہے۔اس کے بجائے وہ مسجد الاقصیٰ کی دیوارغربی کے نیچے عبادت کرتے ہیں۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ یہودیوں کی جانب سے مسجد الاقصیٰ میں بار بار مداخلت کی کوشش سے اس کا تقدس مجروح ہوتا ہے اور وہ اس کی ہیئت کو تبدیل کرنے کی بھی کوشش کررہے ہیں۔وہ جب ان انتہا پسند یہودیوں کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں تو پولیس تشدد کے خاتمے اور امن وامان برقرار رکھنے کے نام پر ان کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیتی ہے۔