.

بھوک ہڑتالی فلسطینی قیدی محمد علان کی نومبر میں رہائی کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے دو ماہ تک مسلسل بھوک ہڑتال کے باعث عالمی شہرت حاصل کرنے والے فلسطینی #محمد_علان کو نومبر میں رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صہیونی فوج کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انتظامی حراست کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کرنے والے فلسطینی محمد علان کو آئندہ ماہ نومبر کے پہلے ہفتے میں رہا کردیا جائے گا۔

خیال رہے کہ 31 سالہ محمد نصر الدین علان نے جون کے وسط میں اپنی انتظامی حراست میں توسیع کے خلاف اسرائیلی جیل میں بھوک ہڑتال شروع کی تھی۔ یہ بھوک ہڑتال 65 دن تک جاری رہی جس کے نتیجے میں محمد علان کی زندگی شدید خطرات سے دوچار ہوگئی تھی۔ اسرائیلی سپریم کورٹ کے حکم پر محمد علان کا فوج کی نگرانی میں اسپتال میں علاج کرایا گیا۔ اسرائیلی ملٹری پراسیکیوٹر کی جانب سے محمد علان کی نومبر میں رہائی کی یقین دہانی کے بعد اس نے بھوک ہڑتال ختم کردی تھی۔ فلسطینی شہری نے انتظامی قید کے خلاف 65 دن تک مسلسل بھوک ہڑتال کر کے اپنے جائز حقوق کے حصول کے لیے جدو جہد کی ایک نئی مثال قائم کی ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری بیان کے بعد امکان ہے کہ محمد علان کو 4 نومبر کو رہا کیا جائے گا۔ محمد علان کی بھوک ہڑتال نے نہ صرف فلسطینی بلکہ اسرائیلی اور عالمی رائے عامہ کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا جس کے بعد انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے بھی اس کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

وسط ستمبرکو محمد علان کو جنوبی #اسرائیل کے ایک فوجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایک انتظامی قیدی کی حیثیت سے اسے اسپتال میں رکھا گیا۔

محمد علان کو نومبر 2014ء کو حراست میں لیا گیا تھا جہاں اسے #اسلامی_جہاد نامی ایک مزاحمتی فلسطینی تنظیم کے ساتھ تعلق کی پاداش میں چھ ماہ کے لیے انتظامی حراست میں ڈال دیا گیا۔ انتظامی حراست کے پہلے چھ ماہ مکمل ہونے کے بعد جب اسرائیلی حکام نے اس کی حراست میں مزید چھ ماہ کی توسیع کی تو اس نے اس فیصلے کے خلاف بہ طور احتجاج بھوک ہڑتال کردی تھی۔

یہ امر قابل ذکر رہے کہ اسرائیل میں انتظامی حراست کا قانون #فلسطین میں قیام اسرائیل سے قبل برطانوی سامراج کے دور سے چلا آ رہا ہے۔ اس قانون کے تحت کسی بھی فلسطینی شہری کو محض شبے کی بنیاد پر کم سے کم چار یا چھ ماہ کے لیے حراست میں لیا جاتا ہے۔ بعد ازاں غیر معینہ مدت کے لیے قید کی سزا میں بار بار توسیع کی جاسکتی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کی انتظامی حراست کی پالیسی کو خلاف قانون قرار دے کر اس کی مذمت کرچکی ہیں۔