.

"فلسطینی مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لئے ہتھیار بند ہو جائیں"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کی اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] کے ایک سینئر عہدیدار نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ یہودیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں کے تناظر میں مسجد اقصیٰ کو لاحق خطرات سے بچاؤ کی خاطر ہتھیار اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔

حماس کے پولٹ بیورو کے سینئر رکن ڈاکٹر محمود الزہار نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے بارے میں اسرائیلی منصوبے ناکام بنانے کا صرف ایک ہی طریقہ ہے کہ اہالیاں مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارا ہتھیار اٹھا لیں

مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں اور اسرائیلی پولیس کے درمیان مسجد اقصیٰ کے مقام پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد سے صورتحال کشیدہ چلی آ رہی ہے۔

ڈاکٹر محمود الزہار کا مزید کہنا تھا کہ ابتک ہتھیار صرف قابضین اور یہودی آبادکاروں کے تحفظ میں استعمال ہوئے ہیں۔ "ہمیں یہ حقیقت فراموش نہیں کرنی چاہئے کہ مغربی کنارا میں موجود انسانی وسائل کو کسی بھی متحرک کیا جا سکتا ہے۔"

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس اور غرب اردن سے تعلق رکھنے والے فلسطینیوں کی پتھراؤ اور پیٹرول بموں سے حملہ کرتی تصویروں نے قابض حکام پر لرزہ طاری کر رکھا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے گذشتہ ماہ پتھرائو کرنے والےفلسطینیوں کے خلاف 'جنگ' شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ نے نئے قوانین منظور کئے جس کے تحت پتھرائو کرنے والوں کو براہ راست گولی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے جبکہ گرفتاری کی صورت میں بھاری جرمانوں کے ساتھ چار برس قید کی سزا بھی دی جا سکتی ہے۔