.

اسرائیلی فورسز اورآبادکاروں کے حملے،77 فلسطینی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے اور بیت المقدس میں اسرائیلی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں اور یہودی آبادکاروں کی براہ راست فائرنگ کے نتیجے میں ستتر فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔

فلسطینی انجمن ہلال احمر کی خاتون ترجمان ایراب فقہا نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ گذشتہ چوبیس گھنٹے کے دوران اسرائیلی فورسز اور یہودی آبادکاروں کی براہ راست فائرنگ سے اٹھارہ فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اورانسٹھ ربر کی گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیلی سکیورٹی اہلکاروں اور یہودی آبادکاروں نے فلسطینیوں کو تشدد کا بھی نشانہ بنایا ہے جس سے چھے افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ اسرائیلی فورسز نے فلسطینی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس استعمال کی تھی جس سے ایک سو انتالیس افراد متاثر ہوئے تھے اور ان کو اسپتال میں طبی امداد مہیا کی گئی ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے دو چاقوحملوں میں دو اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔ان حملوں کے بعد اسرائیلی پولیس نے دو روز کے لیے فلسطینیوں کے مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم حصے میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔اسی حصے میں مسجدالاقصیٰ واقع ہے۔

اسرائیلی پولیس کے اس اقدام سے مقبوضہ مشرقی القدس میں رہنے والے فلسطینیوں کی بڑی اکثریت متاثر ہوگی کیونکہ وہ شہر کے قدیم حصے میں داخل نہیں ہوسکیں گے جبکہ یہودیوں ،سیاحوں ،علاقے کے مکینوں ،کاروباری مالکان اور اسکول کے بچوں کے وہاں داخل ہونے کی اجازت ہے۔

اس پابندی سے قبل ہفتے کی رات ایک فلسطینی نے ایک یہودی کو چاقو گھونپ کر زخمی کردیا تھا۔اسرائیلی پولیس نے اس فلسطینی کو گولی مار دی تھی۔اس واقعے کے چند گھنٹے کے بعد ایک اور فلسطینی نے چاقو حملے میں دو یہودیوں کو ہلاک کردیا تھا اور ایک عورت اور اس کے بچے کو زخمی کردیا تھا۔اسرائیلی پولیس نے اس فلسطینی کو بھی گولی مار دی تھی۔

امریکا نے مقبوضہ بیت المقدس میں دو یہودیوں کو چاقو گھونپ کر قتل کرنے کے واقعے کی مذمت کی ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''واشنگٹن تشدد کی ہرطرح کی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتا ہے۔ہمیں غربِ اردن اور بیت المقدس میں کشیدگی میں اضافے پر تشویش ہے۔ہم تمام فریقوں پر زوردیں گے کہ وہ امن وامان کی بحالی اور کشیدہ صورت حال کے خاتمے کے لیے مثبت اقدامات کریں۔