.

اسرائیلی فوج کا راکٹ کے جواب میں غزہ پر فضائی حملہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج نے سوموار کو علی الصباح غزہ کی پٹی پر ایک فضائی حملہ کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ حملہ فلسطینیوں کی جانب سے راکٹ حملے کے جواب میں کیا گیا ہے۔

بیان کے مطابق اسرائیلی فضائیہ کے ایک طیارے نے غزہ کی پٹی کے شمالی علاقے میں حماس کے ایک ٹھکانے کو حملے میں نشانہ بنایا ہے۔غزہ کی پٹی سے اتوار کی شب اسرائیل کے جنوبی علاقے کی جانب راکٹ فائر کیا گیا تھا لیکن یہ کھلے میدان میں گرا تھا۔دونوں واقعات میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق اس سال اب تک غزہ کی پٹی سے سولہ راکٹ فائر کیے گئے ہیں۔قبل ازیں 30 ستمبر کو اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے حماس کے عسکری ونگ عزالدین القسام بریگیڈز کے چار تربیتی کیمپوں پر بمباری کی تھی۔حملوں کے وقت کیمپ خالی تھے۔اس لیے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

عراق اور شام میں برسرپیکار سخت گیر گروپ داعش سے وابستہ فلسطینی جنگجوؤں نے غزہ سے اسرائیل کی جانب راکٹ فائر کرنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن اسرائیل ہمیشہ سے حماس کو ان واقعات کا ذمے دار قرار دیتا چلا آرہا ہے۔

ادھر غربِ اردن کے علاقے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔اسرائیل نے گذشتہ ہفتے کی شب دو یہودیوں کے چاقو حملے میں قتل کے بعد مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم حصے میں فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی تھی۔

فلسطینی اس خدشے کا اظہار کررہے ہیں کہ اسرائیل مسجدالاقصیٰ کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور وہ مقبوضہ بیت المقدس کو یہودیانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے جس پر فلسطینیوں میں سخت اشتعال پایا جاتا ہے اور ان کی حالیہ دنوں کے دوران صہیونی سکیورٹی فورسز کے ساتھ متعدد مرتبہ جھڑپیں ہوچکی ہیں۔گذشتہ دو روز میں اسرائیلی فورسز اور یہودی آبادکاروں کی براہ راست فائرنگ اور جھڑپوں میں کم سے کم اسّی فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔