.

اسرائیل نے دو فلسطینیوں کے گھر دھماکے سے اڑا دیئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قابض اسرائیلی حکام نے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کی سیکیورٹی کابینہ کے فیصلوں کی روشنی میں القدس کے اندر یہودی آبادکاروں اور مذہبی پشواؤں پر حملوں میں ملوث تین فلسطینی خاندانوں کو اجتماعی سزا کا نشانہ بناتے ہوئے علاقے سے جبری بیدخلی کا حکم صادر کیا ہے۔ یہ حملے جبل المکبر اور سلوان میونسپلٹی کی الثوری کالونی میں کئے گئے۔

فلسطین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'معا' کے مطابق قابض فوجیوں نے سلوان میونسپلٹی کی الثوری کالونی میں حملہ آور معتز حجازی کا گھر سیل کر دیا۔ کارروائی کرتے ہوئے افراد خانہ کو گھر سے دور ہٹا دیا گیا ہے۔ اس وقت بھی گھر کے اندر اور اردگرد اسرائیلی فوجی موجود ہیں اور اہل خانہ کو گھر داخلے کی اجازت نہیں دے رہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے جبل المکبر گاؤں پر بھی حملہ کیا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور بارودی مواد کے ماہرین فلسطینی حملہ آور محمد جعابیص کے گھر گئے۔ دوسرے گروپ نے غسان ابوجمل کے گھر پر چھاپہ مار کارروائی کی۔

'معا' کے مطابق اسرائیلی فوج نے دونوں مکانات کے گرد دھماکا خیز مواد لگا کر انہیں دھماکے سے اڑا دیا جس کی وجہ سے قرب و جوار میں واقع متعدد مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینیوں کے دو چاقوحملوں میں دو اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد سے کشیدگی پائی جارہی ہے۔ان حملوں کے بعد اسرائیلی پولیس نے دو روز کے لیے فلسطینیوں کے مقبوضہ بیت المقدس کے قدیم حصے میں داخلے پر پابندی عاید کردی ہے۔اسی حصے میں مسجد الاقصیٰ واقع ہے۔

ہفتے کی رات ایک فلسطینی نے ایک یہودی کو چاقو گھونپ کر زخمی کردیا تھا۔اسرائیلی پولیس نے اس فلسطینی کو گولی مار دی تھی۔اس واقعے کے چند گھنٹے کے بعد ایک اور فلسطینی نے چاقو حملے میں دو یہودیوں کو ہلاک کردیا تھا اور ایک عورت اور اس کے بچے کو زخمی کردیا تھا۔اسرائیلی پولیس نے اس فلسطینی کو بھی گولی مار دی تھی۔