.

اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے ایچ آر ڈبلیو کی مبصر زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اطلاع دی ہے کہ اس کی ایک مبصر مغربی کنارے میں ایک حالیہ مظاہرے کے دوران اسرائیلی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چلائی گئی ربر کی گولیوں اور ممکنہ طور پر براہ راست فائرنگ سے زخمی ہوگئی ہے۔

نیویارک میں قائم تنظیم نے اتوار کو جاری کردہ بیان میں بتایا ہے کہ خاتون مبصر رام اللہ کے نزدیک 6 اکتوبر کو ربر کے خول والی اسٹیل کی دو گولیاں لگنے سے زخمی ہوئی تھی۔تاہم اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے۔

''اس خاتون کی جیکٹ پر لفظ ''پریس'' لکھا ہوا تھا۔وہ مظاہرے کی تصویرکشی کررہی تھی۔اس کے باوجود اسرائیلی فورسز نے اس کو بھی فائرنگ میں نشانہ بنایا تھا۔ایک گولی اس کی پشت پر لگی تھی اور ایک جبڑے پر لگی تھی۔تیسری براہ راست گولی اس کے ہاتھ پر لگی تھی یا اس کے نزدیک پھٹنے کے بعد اس کے ٹکڑے خاتون کے ہاتھ کو لگے تھے''۔

ایچ آر ڈبلیو نے کہا ہے کہ''اسرائیلی فورسز نے کسی انتباہ کے بغیر فلسطینی مظاہرین پر فائرنگ کی تھی۔اس وقت مظاہرین کی جانب سے تشدد کے بظاہر کسی خطرے کو مشاہدہ نہیں کیا گیا تھا۔وہ پُرامن طور پر مظاہرہ کررہے تھے''۔

ایچ آر ڈبلیو کی مبصر خاتون فری لانس صحافیہ کے طور پر کام کرتی ہیں۔انھیں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے بعد اسپتال لے جایا گیا تھا اور طبی امداد کے بعد فارغ کردیا گیا تھا۔اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے سات مظاہرین بھی زخمی ہوگئے تھے۔اسرائیلی فوج نے اس واقعے کے حوالے سے ایچ آر ڈبلیو کے بیان پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

واضح رہے کہ غربِ اردن کے علاقے اور مقبوضہ بیت المقدس میں اس ماہ کے آغاز سے اسرائیلی فورسز اور فلسطینیوں کے درمیان تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔اسرائیلی فورسز پتھراؤ کرنے والے فلسطینیوں کو ربر کی گولیوں اور اشک آور گیس کے گولوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔بعض اوقات فلسطینیوں کو براہ راست فائرنگ کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے۔اسرائیلی فوج نے گذشتہ ایک ہفتے کے دوران دس سے زیادہ فلسطینیوں کو فائرنگ یا فضائی حملوں میں شہید کردیا ہے۔